جعلی ٹیکسٹائل کی یونٹ کے ذریعے 14 کروڑ سے زائد مالیت کی ٹیکس چوری

کراچی (کسٹمز بلیٹن) ڈئریکٹوریٹ آف پوسٹ کلیئرنس آڈٹ ساﺅتھ نے جعلی ٹیکسٹائل یونٹ کے ذریعے ہونے والا 14 کروڑ 33 لاکھ روپے سے زائد کی ٹیکس چوری کا بڑا سکینڈل بے نقاب کرتے ہوئے مقامی ٹیکسٹائل امپورٹر میسرز امپیریل ٹیکسٹائل کے مالک سید بلال رضا کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی ہے،درآمدکنندہ نے جعلی طریقے سے مینوفیکچرنگ اسٹیٹس ظاہر کر کے ڈیوٹی وٹیکسز کی سہولیات غیرقانونی طریقے سے حاصل کیں۔ ڈائریکٹر جنرل پی سی اے یعقوب ماکو کی ہدایت پر ڈائریکٹر افضل وٹو کی زیر نگرانی نادہندگان کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں جبکہ اس بڑے فراڈ کا سراغ اپریزر عمران سیفی نے لگایا۔ تحقیقات کے مطابق ملزم سید بلال رضا نے جعلی مینوفیکچرنگ حیثیت ظاہر کر کے سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس میں رعایتی شرحوں کا ناجائز فائدہ اٹھاکر قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا۔ پوسٹ کلیئرنس آڈٹ کی ٹیم نے 4 ستمبر 2025 کومیسرز امپیریل ٹیکسٹائل کے رجسٹرڈ پتوں کی جانچ پڑتال کی جن میں پہلا پتہ گراو¿نڈ فلور پلاٹ نمبر165/1بلاک سی منظور کالونی کراچی کاایک گودام نکلا جہاں کوئی مشینری یا مینوفیکچرنگ سرگرمی نہیں تھی جبکہ دوسرا پتہ سروے نمبر6543/57اسٹریٹ نمبر2سیکٹرجی ،منظور کالونی ایک رہائشی عمارت کا نکلا جس کا کمپنی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ دورانِ تفتیش بلال رضا نے خود تسلیم کیا کہ وہ کسی قسم کی مینوفیکچرنگ نہیںچلا رہا۔ ریکارڈ کے مطابق ،میسرزامپیریل ٹیکسٹائل نے اکتوبر 2023 سے 70کنسائمنٹس درآمدکئے جس کے ذریعے ایک ارب 25کروڑ روپے سے زائد مالیت کے ٹیکسٹائل فیبرک امپورٹ کیے اور جعلی مینوفیکچرنگ حیثیت ظاہر کر کے اضافی سیلز ٹیکس سے استثنیٰ اور انکم ٹیکس میں کم شرح کی رعایت حاصل کی، جس سے قومی خزانے کو 14کروڑ33 لاکھ34 ہزار575 روپے کا نقصان پہنچاجن میں 9کروڑ44 لاکھ 60 ہزار733 روپے کی انکم ٹیکس چوری شامل ہے۔۔ مزید تحقیقات میں دو کلیئرنگ ایجنٹس میسرز جنید قمر انٹرپرائزز اومیسرز ایس ایس ایس انٹرپرائزز کے کردار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا وہ بھی جعلی فائلنگ اور ٹیکس چوری میں شریک ہیں یا نہیں۔




