ساﺅتھ ایشیا پاکستان ٹرمینل پر ایک ماہ میں آگ لگنے کے دو واقعات: وی ٹریکنگ کمپنی کی غیر تصدیق شدہ ڈیوائسز ممکنہ بنیادی سبب قرار

کراچی (کسٹم بلیٹن) ساﺅتھ ایشیا پاکستان ٹرمینل پر وی ٹریکنگ کمپنی کے آفس میں پیش آنے والے آتشزدگی کے دو الگ الگ واقعات کے بارے میں ابتدائی معلومات سے سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں۔ مذکورہ ٹریکنگ کمپنی کے ایس اے پی ٹی ٹرمینل آفس میں آگ لگنے کا پہلا واقعہ28 اکتوبر2025کو پیش آیا جسے نظرانداز کردیا گیا اور واقعہ کی تحقیقات سے گریز کیا گیا۔ بعدازاں ٹریکنگ کمپنی نے آگ لگنے کے بعد اپنی کاروباری سرگرمیاں این ایل سی کے آفس سے شروع کردیں اور اپنا تمام تر ٹریکنگ ڈیوائس این ایل سی کےامذکورہ ٹرمینل کے آفس میں ذخیرہ کیں۔ایک ماہ بعد26نومبر2025کو ایک مرتبہ پھر ٹریکنگ کمپنی(وی ٹریک)کے مذکورہ ٹرمینل آفس میں ذخیرہ کی گئی لیتھیم بیٹری اوردیوائسز میں آگ بھڑک اٹھی جس نے این ایل سی کے آفس کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس واقعے میں دونوں کمپنیوں کی کروڑوں روپے مالیت کی ڈیوائسز اور دیگر سامان جل کر خاکستر ہوگیا لیکن اس واقعے کی بھی کوئی رپورٹ نہیں بنائی گئی۔کسٹمز کے کنٹینر ٹریکنگ منصوبے میں فی الحال دو قسم کے ہارڈویئر استعمال ہو رہے ہیں, فالکن آئی اور این ایل سی ایک ہی کمپنی کابناہواہارڈویئر استعمال کر رہے ہیں۔ یہ ڈیوائسز ایک مستند اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ مینوفیکچرر کی جانب سے تیار کی گئی ہیں جن کی متعدد ممالک میں کامیاب تعیناتی اور معیار کے مطابق مستند کارکردگی موجود ہے۔اس کے برعکس، وی ٹریکنگ کمپنی جو ڈیوائس استعمال کر رہا ہے وہ ایک غیر معروف اور کم لاگت مینوفیکچرر سے حاصل کی گئی ہے جس کا نہ کوئی عالمی ریکارڈ موجود ہے اور نہ ہی اس نے حفاظتی و تکنیکی معیار کی تکمیل کا کوئی معتبر ثبوت فراہم کیا ہے۔ اس کے باعث بیٹری کی ناکامی اور آتشزدگی کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وی ٹریکنگ کمپنی کی جانب سے استعمال کی جانے والی کنٹینر ٹریکنگ ڈیوائسز کسی معروف یا عالمی سطح پر تسلیم شدہ مینوفیکچرر کی تیار کردہ نہیں تھیں اور نہ ہی یہ کسی سرٹیفائیڈ بین الاقوامی منصوبے میں استعمال ہوئیں۔ ابتدائی جائزے کے مطابق ان آلات میں عالمی معیار کی بنیادی حفاظتی تصدیقات اور ضروری سیفٹی میکانزم موجود نہیں تھے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ لیتھیم بیٹریاں اس وقت آگ پکڑ تی ہیں جب ان کی اندرونی ساخت میں نقص پیدا ہو جائے یا غیر معیاری تیاری کے باعث بیٹری کا اسپیریٹر ناکام ہو جائے، جو بالآخر آگ لگنے کا سبب بن جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ناقص سیلز، حفاظتی سرکٹس کی عدم موجودگی، اوور چارجنگ اور غیر تصدیق شدہ بیٹریوں کا استعمال اس خطرے کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔قابل ذکر امر یہ ہے کہ ایس اے پی ٹی میں پیش آنے والے دونوں آتشزدگی کے واقعات انہی مقامات پر رونما ہوئے جہاں وی ٹریک کمپنی کی ڈیوائسز نصب تھیں۔ اس صورتحال نے یہ خدشہ انتہائی مضبوط کر دیا ہے کہ ڈیوائس کے ہارڈویئر، بیٹری ڈیزائن یا حفاظتی میکانزم میں سنگین نقائص موجود ہیں جو مسلسل آگ لگنے کے واقعات کا بنیادی سبب ثابت ہو سکتے ہیں۔اس صورتحال کے بعد باﺅنڈ کیریئرز اور ان کے گراﺅنڈ ایجنٹس نے بھی اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ٹرانزٹ کے دوران ان کے قیمتی سامان کی حفاظت براہِ راست خطرے میں پڑ رہی ہے، خصوصاً جب غیر تصدیق شدہ اور غیر معیاری ڈیوائسز آگ لگنے کا سبب بن رہی ہیں۔مزید تحقیقات جاری ہیں اور متعلقہ اداروں نے مذکورہ ڈیوائسز کے تکنیکی معائنہ اور حفاظتی تصدیق کی عدم دستیابی کے تناظر میں جامع رپورٹ طلب کر لی ہے۔




