Breaking NewsEham Khabar

کسٹمز اصلاحات سے تجارتی عمل میں تیزی آچکی ہے، ارشد خورشید

کراچی (کسٹم بلیٹن) آل پاکستان کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین ارشد خورشید نے کہا ہے کہ کسی بھی تجارتی ایسوسی ایشن کی ذمہ داری صرف اراکین کے مسائل متعلقہ محکموں تک پہنچانا نہیں بلکہ بدلتے ہوئے تجارتی ماحول اور نظام میں آنے والی تبدیلیوں سے بروقت آگاہی فراہم کرنا بھی ہے، تاکہ کاروباری طبقہ جدید تقاضوں کے مطابق اپنے معاملات بہتر انداز میں انجام دے سکے۔ انہوں نے کہا کہ چیف کلکٹر واجد علی نے کسٹمز کے سسٹم میں حالیہ تبدیلیوں سے قبل تاجر برادری کو آگاہ کیا گیا، جس کے باعث ان اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آئے۔ چیف کلکٹر کسٹمز واجد علی کے چارج سنبھالنے کے بعد تمام ٹریڈ باڈیز کے ساتھ مشاورت کا عمل شروع کیا گیا، ان کی تجاویز کی روشنی میں سسٹم میں عملی اصلاحات متعارف کروائی گئیں جن پر م¶ثر عملدرآمد جاری ہے۔ ان اصلاحات کا براہِ راست فائدہ کلیئرنس کے عمل میں نمایاں تیزی کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ جی ڈیز کی بروقت پراسیسنگ ممکن ہوئی ہے اور درآمد و برآمد کے عمل میں غیر ضروری تاخیر کم ہوچکی ہے، جس پر تجارتی و صنعتی حلقوں نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ ارشد خورشید نے بتایا کہ چیف کلکٹر کسٹمز کی جانب سے منعقد کیے گئے اوپن ہا¶س سیشن نے کسٹمز ایجنٹس اور محکمے کے درمیان رابطے کے فقدان کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس اجلاس میں تینوں کلکٹرز کی موجودگی میں کسٹمز ایجنٹس کو اپنے تحفظات براہِ راست پیش کرنے کا موقع ملا، جن میں سے متعدد مسائل کے حل کے لیے موقع پر ہی احکامات جاری کیے گئے۔ پری اررائیول سسٹم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ماضی میں جی ڈی فائل کرنے کے لیے ٹیکسز اور سیس کی پیشگی ادائیگی لازمی ہونے کے باعث تاجروں کو شارٹ شپ کی صورت میں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ تاہم اس مسئلے کی نشاندہی کے بعد ممبر کسٹمز کی مداخلت سے پاکستان سنگل ونڈو اور حکومت سندھ کے تعاون سے اس پالیسی میں بہتری لائی گئی۔ ان کے مطابق اب پری اررائیول جی ڈی فائل کرنے پر فوری طور پر کسی قسم کے ٹیکس کی ادائیگی لازم نہیں رہی، صرف ڈیکلریشن جمع کروانا کافی ہے۔ اس کے بعد اسسمنٹ اور ایگزامنیشن کا عمل مکمل کیا جاتا ہے اور جہاز کی آمد کے ساتھ ہی جی ڈی کلیئر ہو جاتی ہے، جس سے بندرگاہوں پر رش کم ہوا ہے اور لاجسٹکس لاگت میں بھی کمی آئی ہے۔ ارشد خورشید نے کہا کہ پہلے آئیے، پہلے پائیے کے اصول پر عملدرآمد سے شفافیت میں اضافہ ہوا ہے اور کسی بھی جی ڈی کو بلاجواز ترجیح نہیں دی جا رہی۔ شارٹ شپ کی صورت میں جی ڈی کی منسوخی پر بھی تاجروں کو مالی دبا¶ کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، جس سے کاروباری تسلسل برقرار رہتا ہے۔ انہوں نے محکمہ کسٹمز کے حالیہ اقدامات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اصلاحات پاکستان میں تجارتی سرگرمیوں کے فروغ، درآمدی و برآمدی لاگت میں کمی اور کاروباری اعتماد کی بحالی میں اہم سنگِ میل ثابت ہو رہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button