بدعنوانی میں ملوث کسٹمزآفیسرکا جرم ثابت ،کسٹمزسپرنٹنڈنٹ کو بڑی سزا

اسلام آباد(کسٹم بلیٹن)فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر تعینات کسٹمز سپرنٹنڈنٹ مرزا محمد عمران بیگ (ٹی ایس-17) کے خلاف محکمانہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد غفلت اور نااہلی ثابت ہونے پر بڑی سزا عائد کر دی ہے۔ مذکورہ افسر کو ایک سال کے لیے کم عہدے اور کم پے اسکیل پر تنزلی کی سزا دی گئی ہے جبکہ ان کا پرفارمنس الاو¿نس بھی ایک سال کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، مرزا محمد عمران بیگ کے خلاف سول سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2020 کے تحت نااہلی، بدانتظامی اور بدعنوانی کے الزامات پر کارروائی کا آغاز کیا گیا تھا۔ ان الزامات کی بنیاد ایک ایسے واقعے پر تھی جس میں ایک مسافر ممنوعہ اور ڈیوٹی ایبل الیکٹرانکس سامان کے ساتھ گرین چینل سے گزر گیا۔ایڈیشنل کلکٹر اسماءبشیر نے کی، جنہوں نے 21 نومبر 2025 کو اپنی رپورٹ پیش کی۔ انکوائری رپورٹ میں یہ ثابت ہوا کہ بطور شفٹ انچارج ملزم افسر اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کرنے میں ناکام رہا اور مسافر کو چیکنگ کے لیے نہ روکا گیا، جو کہ واضح غفلت کے زمرے میں آتا ہے۔دورانِ سماعت، محکمانہ نمائندے نے مو¿قف اختیار کیا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق ملزم افسر مسافر کے قریب موجود تھا لیکن اس کے باوجود مسافر کو نہ تو روکا گیا اور نہ ہی ریڈ چینل کی طرف موڑا گیا۔ بعد ازاں اسی مسافر کو گیٹ آو¿ٹ پر روک کر تلاشی لی گئی، جہاں سے الیکٹرانکس اور دیگر ممنوعہ اشیاءبرآمد ہوئیں۔ملزم افسر نے اپنے دفاع میںموقف اپنایا کہ وہ اس وقت سیکیورٹی اہلکاروں سے سرکاری معاملات میں مصروف تھا اور ہر مسافر کو ذاتی طور پر چیک کرنا ممکن نہیں۔ تاہم ایف بی آر نے ان دلائل کو تسلیم نہیں کیا اور قرار دیا کہ غفلت ثابت ہو چکی ہے، اگرچہ بدعنوانی یا بدنیتی کے شواہد نہیں مل سکے۔تمام ریکارڈ، شواہد، شوکاز نوٹس اور ذاتی سماعت کے بعد ممبر (ایڈمن/ایچ آر)، ایف بی آر نے ایک سال کے لیے کم عہدے اور کم پے اسکیل پر تنزلی کی سزا نافذ کرنے کا حکم دیا۔متاثرہ افسر کو اس فیصلے کے خلاف 30 دن کے اندر اپیل دائر کرنے کا حق حاصل ہے۔



