Breaking NewsEham KhabarExclusive Reports

چھالیہ کی قانونی درآمد پر قدغن، ایک لیبارٹری کو ”سپر اتھارٹی“ بنانے پر درآمد کنندگان کا شدید احتجاج

کراچی(کسٹم بلیٹن)آل پاکستان بیٹل نٹس امپورٹرز ایسوسی ایشن نے محکمہ تحفظ نباتات کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن نمبر کے پی 42مورخہ21جولائی2025کو امتیازی، غیر قانونی اور آئینِ پاکستان کے منافی قرار دیتے ہوئے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ایسوسی ایشن کے مطابق مذکورہ نوٹیفکیشن کے تحت اگرچہ 9 لیبارٹریوں کو چھالیہ کی جانچ کے لیے نامزد کیا گیا ہے، تاہم شق نمبر 3 کے ذریعے جامعہ کراچی کے تحت کام کرنے والی ایچ ای جے لیبارٹری کو ”حتمی اتھارٹی“ قرار دے کر دیگر تمام پی این اے سی سے منظور شدہ وفاقی لیبارٹریوں کو عملاً غیر مو¿ثر بنا دیا گیا ہے، جو کھلی ناانصافی اور اجارہ داری کے مترادف ہے۔ایڈوکیٹ آصف علی ابڑو کا کہنا ہے کہ پی این اسے سی ایکریڈیٹیشن پیرامیٹر مخصوص ہوتی ہے اور کسی ایک لیبارٹری کو فوقیت یا عدالتی نوعیت کا اختیار دینا نہ صرف سائنسی غیر جانبداری کے اصولوں کے خلاف ہے بلکہ آئین کے آرٹیکل 4، 18 اور 25 کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔ایسوسی ایشن نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں چھالیہ کی ماہانہ طلب تقریباً 600 کنٹینرز ہے، جس سے حکومت کو 3 ارب روپے سے زائد ماہانہ ریونیو حاصل ہو سکتا ہے، مگر قانونی درآمد میں رکاوٹوں کے باعث 90 فیصد چھالیہ اسمگلنگ کے ذریعے مارکیٹ میں آ رہا ہے، جس پر نہ تو افلاٹوکسِن ٹیسٹ ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی ٹیکس ادا کیا جاتا ہے۔درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ ایچ ای جے لیبارٹری نہ توپی این اے سی کی جانب سے ”سپر لیب“ قرار دی گئی ہے اور نہ ہی کسی پارلیمانی قانون کے تحت اسے تجارتی درآمدات پر حتمی فیصلہ دینے کا اختیار حاصل ہے۔ ماضی میں اعلیٰ عدالتیں بھی ایچ ای جے رپورٹس پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے سیمپلز دیگر لیبارٹریوں کو ری ٹیسٹنگ کے لیے بھجوا چکی ہیں۔ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ متنازع شق 3 کو فوری طور پر واپس لیا جائے، تمام پی این اے سی منظور شدہ لیبارٹریوں کو مساوی حیثیت دی جائے اور قانونی درآمد کو سہل بنا کر اسمگلنگ کا خاتمہ کیا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button