ایف بی آر کے امتیازی رویے کے خلاف آئینی پٹیشن، پرفارمہ پروموشن سے محرومی چیلنج

اسلام آباد(کسٹم بلیٹن)فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے مبینہ امتیازی اور غیرقانونی طرز عمل کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں آئینی پٹیشن ریٹائرکسٹمز آفیسرامین فاروقی نے دائر کر دی ہے، جس میں ایک ریٹائرڈ کسٹمز افسر کو اس کے جائزپرفارمہ پروموشن کے حق سے محروم رکھنے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا ہے۔پٹیشن میں مو¿قف اختیار کیا گیا ہے کہ درخواست گزار نے کسٹمز ڈیپارٹمنٹ میں 1987 سے طویل سرکاری خدمات انجام دیں اور مختلف ادوار میں ترقی پاتے ہوئے اسسٹنٹ کلکٹر (بی ایس 17) کے عہدے تک پہنچے۔ درخواست گزار کو 2015 میں بی ایس 17 میں ہائر ٹائم اسکیل دیا گیا اور وہ ریٹائرمنٹ تک نو سال سے زائد عرصہ بی ایس 17 میں خدمات انجام دیتے رہے۔درخواست میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ایس آر او1493کے تحت درخواست گزار کے ایک ہم بیج افسر کو صرف پانچ سال بی ایس 17 مکمل کرنے پر ڈپٹی کلکٹر (بی ایس 18) کے عہدے پر ترقی دے دی گئی، جبکہ اسی نوٹیفکیشن اور سروس رولز کے تحت زیادہ عرصہ خدمات انجام دینے والے درخواست گزار کو نظر انداز کر دیا گیا۔ امین فاروقی کی جانب سے دائر کی گئی پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار نے 2023 سے لے کر متعدد مرتبہ ایف بی آر کو تحریری درخواستیں اور یاد دہانیاں بھجوائیں، مگر دو سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا، جو آئین کے آرٹیکل 4، 9، 18، 25 اور 27 کی خلاف ورزی ہے۔پٹیشن میں مزیدموقف اختیار کیا گیا ہے کہ پروموشن کا حق ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ختم نہیں ہوتا، اور اگر سرکاری ملازم دوران سروس تمام قانونی تقاضے پورے کر لے تو اسے پروفارما پروموشن دی جا سکتی ہے، جس کے اثرات پنشن اور دیگر مالی مراعات پر مرتب ہوتے ہیں۔ امین فاروقی نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ایف بی آر کے امتیازی اور غیرقانونی طرز عمل کو کالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست گزار کو اس کے ہم بیچ افسر کے برابر بی ایس 18 میں پروفارما پروموشن اور تمام تر واجب الادا مراعات دینے کا حکم جاری کیا جائے۔




