فیبرک اسٹون کیس میں کسٹمز افسران کی حکم عدولی

اسلام آباد(کسٹم بلیٹن) وفاقی ٹیکس محتسب نے میسرز فیبرک اسٹون کی جانب سے دائر شکایت پر ایک شفاف اور جامع فیصلہ جاری کرتے ہوئے کسٹمز اپریزمنٹ ویسٹ لاہور کے طرز عمل کو نہایت سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے قانون، ضابطوں اور عدالتی نظم و ضبط کے منافی قرار دیا، وفاقی محتسب نے واضح کیا کہ محکمہ کسٹمز نے نہ صرف کلکٹر اپیلز کے 4 جولائی 2025 کے واضح فیصلے کو نظر انداز کیا بلکہ ازخود نئی کارروائیاں شروع کر کے اپیلیٹ آرڈر کو غیر مو/s,ثر بنانے کی کوشش کی، فیصلے کے مطابق اپیل میں ہدایت دی گئی تھی کہ مال کی ازسرنو جانچ اپیلیٹ آرڈر کے مطابق کی جائے اور اگر کوئی زائد رقم وصول ہوئی ہو تو واپس کی جائے، تاہم محکمہ نے نئی لیبارٹری رپورٹ حاصل کر کے، پے آرڈرز وصول کر کے اور حلف نامے طلب کر کے ایسا تاثر دیا جیسے اپیلیٹ فیصلہ موجود ہی نہ ہو، محتسب نے قرار دیا کہ کسی بھی ماتحت افسر کو اختیار حاصل نہیں کہ وہ بالاتر اپیلیٹ اتھارٹی کے حکم کو نظر انداز کرے اور نہ ہی اسٹے آرڈر کے ذریعے ماضی کی کارروائیوں کو قانونی جواز فراہم کیا جا سکتا ہے کیونکہ اسٹے آرڈر کا اطلاق مستقبل پر ہوتا ہے، محتسب نے ریویو پٹیشن دائر کرنے کو تاخیری حربہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اصل مقصد محتسب کی سفارشات پر عمل سے بچنا تھا اور یہ عمل شفافیت اور جوابدہی کے اصولوں کے منافی تھا، محتسب نے چیئرمین وفاقی بورڈ آف ریونیو کو ہدایت کی کہ وہ 60 دن کے اندر متعلقہ افسران کے کردار کی مکمل تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کریں اور اگر عدالت اور محتسب کی سفارشات کے مطابق اصلاح نہ ہوئی تو معاملہ صدرِ مملکت کو خصوصی رپورٹ کے ذریعے پیش کیا جائے، ماہرین اور تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ فیصلہ کسٹمز نظام میں جوابدہی، اپیلیٹ فیصلوں کے احترام اور اداروں کی شفاف کارکردگی کے حوالے سے ایک اہم مثال ہے، اس سے نہ صرف افسران کے اختیار کی حدود واضح ہوں گی بلکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کی غیر قانونی کاروائی اور سرکاری فیصلوں کی نظراندازی کے امکان کو کم کرنے میں مدد ملے گی، تجزیہ نگاروں نے کہا کہ اس فیصلے سے عوام کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوگا کیونکہ شفاف اور ذمہ دارانہ کارروائیوں کے بغیر مالی اور تجارتی نظام میں اعتماد قائم نہیں رہ سکتا، اس فیصلے کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ کسٹمز افسران اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے ادا کریں گے اور اپیلیٹ فیصلوں کی روشنی میں کام کریں گے تاکہ نہ صرف قانونی تقاضے پورے ہوں بلکہ تجارتی و مالیاتی نظام میں منظم اور شفاف رویہ یقینی بنایا جا سکے۔


