Breaking NewsCrimeEham Khabar

خاتون کے نام پر کروڑوں کی گاڑی، حقیقت سامنے آگئی

کراچی(کسٹم بلیٹن) وفاقی ٹیکس محتسب نے ایک شفاف اور مفصل تحقیقات کے بعد حیران کن انکشاف کیا ہے کہ مسز مریم عاطف کے شناختی کارڈ کا غلط استعمال کر کے لاکھوں روپے مالیت کی گاڑی خریدی گئی اور بعد ازاں اسی بنیاد پر ان پر ٹیکس عائد کر دیا گیا، مسز مریم جو ایک تنخواہ دار شہری ہیں اور ٹیکس سال دو ہزار انیس کے لیے چار لاکھ روپے آمدن ظاہر کر چکی تھیں، ان کے نام پر تقریباً بیس لاکھ روپے مالیت کی ٹویوٹا کرولا خریدنے کا دعویٰ محکمہ ان لینڈ ریونیو نے تھرڈ پارٹی معلومات کی بنیاد پر کیا اور اسی کے نتیجے میں 67 ہزار 350 روپے ٹیکس واجب الادا قرار دیا گیا، خاتون کے واضح انکار کے باوجود 23 جون دو ہزار پچیس کو اسسمنٹ آرڈر جاری کر دیا گیا، محتسب کی مداخلت پر گاڑی بنانے والی کمپنی سے ریکارڈ طلب کیا گیا تو معلوم ہوا کہ ادائیگی دو پے آرڈرز کے ذریعے کی گئی تھی جو سندھ بینک کے ایک اکاو¿نٹ سے جاری ہوئے اور تحقیقات سے یہ اکائونٹ فرخ سلیم نامی شخص کے نام پر نکلا، اس شخص کو نوٹس جاری کیا گیا مگر وہ پیش نہ ہوا جس سے بدنیتی کا شبہ مزید مضبوط ہوا، مزید تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا کہ گاڑی ابتدا میں کسی اور شخص کے نام رجسٹر ہوئی اور بعد میں مزید منتقل ہوتی رہی جبکہ شکایت کنندہ کا اس لین دین سے کوئی تعلق ثابت نہ ہوا، محتسب نے قرار دیا کہ اگر محکمہ ابتدائی مرحلے پر ہی کمپنی اور بینک سے تصدیق کرتا تو ایک بے گناہ شہری کو ذہنی اذیت اور قانونی پیچیدگی کا سامنا نہ کرنا پڑتا، فیصلے میں واضح حکم دیا گیا کہ متنازعہ اسسمنٹ آرڈر پر قانون کے مطابق نظرثانی کی جائے، شناختی کارڈ کے غلط استعمال پر ذمہ دار شخص کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور متعلقہ افسر کی کونسلنگ کی جائے، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کیس شہریوں کے ڈیٹا کے تحفظ، ٹیکس حکام کی ذمہ داریوں اور شفاف کارکردگی کے حوالے سے ایک مثالی واقعہ ہے، تجزیہ نگاروں نے بتایا کہ اس فیصلے سے مستقبل میں شہریوں کے حقوق کا تحفظ ممکن ہوگا اور افسران اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے ادا کرنے پر مجبور ہوں گے، یہ کیس واضح کرتا ہے کہ ابتدائی تحقیق اور مکمل تصدیق نہ کرنے سے عام شہری پر بلاجواز قانونی بوجھ اور ذہنی اذیت عائد ہو سکتی ہے اور قانون کی بالادستی اور شفافیت کے تقاضوں کو یقینی بنانے کے لیے مستقل نگرانی، جوابدہی اور اصلاحی اقدامات ناگزیر ہیں، محتسب کے فیصلے نے نہ صرف ایک بے گناہ شہری کی حق تلفی کو روکا بلکہ ٹیکس نظام میں افسران کی کوتاہیوں کو بھی بے نقاب کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button