Breaking NewsEham KhabarExclusive Reports

ٹی آئی آر نظام سے نئی راہیں کھل گئیں، پاکستان کو اربوں ڈالر کمانے کا موقع

کراچی (کسٹم بلیٹن )پاکستان اس وقت عالمی تجارتی نقشے میں ایک غیر معمولی مگر محدود المدتی موقع کے دہانے پر کھڑا ہے جہاں بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال اسے سالانہ 25 ارب ڈالر تک معاشی سرگرمی پیدا کرنے کی صلاحیت دے سکتی ہے، تاہم ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ پالیسی تاخیر اور انتظامی کمزوریوں کے باعث یہ موقع تیزی سے ہاتھ سے نکل سکتا ہے، عالمی سپلائی چینز کی ازسرنو تشکیل، خلیجی سمندری راستوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور وسطی ایشیا کی تجارت کے نئے راستوں کی تشکیل نے پاکستان کو خطے کا مرکزی زمینی تجارتی کوریڈور بننے کا تاریخی موقع فراہم کیا ہے، پاکستان جغرافیائی طور پر چائنا، وسطی ایشیا، ایران اور بحیرہ عرب کے سنگم پر واقع ہے جو اسے عالمی تجارت کے لیے ایک قدرتی پل بناتا ہے، اس کے باوجود وسطی ایشیا کے ساتھ پاکستان کی تجارت محض 2.4 ارب ڈالر تک محدود ہے جبکہ ٹرانزٹ ٹریڈ سے صرف 410 ملین ڈالر حاصل ہو رہے ہیں، ماہرین کے مطابق مناسب پالیسی اصلاحات کے ذریعے یہ حجم 10 ارب ڈالر یا اس سے زائد تک بڑھ سکتا ہے، خلیجی خطے میں غیر یقینی صورتحال کے باعث روایتی سمندری راستے متاثر ہو رہے ہیں جس کے نتیجے میں بین الاقوامی کمپنیاں متبادل زمینی راستوں کی تلاش میں ہیں اور یہی صورتحال پاکستان کے لیے ایک براہ راست تجارتی موقع بن رہی ہے،کراچی، پورٹ قاسم اورگوادر جیسے اہم بندرگاہی مراکز پاکستان کو یہ منفرد صلاحیت دیتے ہیں کہ وہ خلیج، چین اور وسطی ایشیا کو بیک وقت جوڑ سکے،ٹی آئی آرکنونشن کے تحت فعال ہونے والا نظام اس موقع کو مزید مضبوط بناتا ہے جس کے ذریعے سیل بند کنٹینرز بغیر بار بار کسٹمز کارروائی کے کئی ممالک سے گزر سکتے ہیں، اس نظام کے تحت ٹرانزٹ وقت میں 70 سے 80 فیصد تک کمی اور لاگت میں تقریباً 50 فیصد تک کمی ممکن ہے، ماضی میں چین سے آنے والی بڑی تجارتی کنسائمنٹس دبئی کے ذریعے یواے ای کے ری ایکسپورٹ ماڈل سے گزرتی تھی جس سے وہاں کی معیشت کو بھاری فائدہ حاصل ہوتا تھا، تاہم پاکستان اب ایک متبادل راستہ فراہم کر سکتا ہے جہاں کراچی سے کوئٹہ کے ذریعے چمن اورطورخم تک زمینی راستہ نہ صرف مختصر بلکہ کم لاگت بھی ہے، اسی طرح تافتان کے ذریعے ایران کوریڈور پاکستان کو ترکی اور یورپ تک تجارتی رسائی فراہم کر سکتا ہے، تاہم بار بار سرحدی بندشیں، پالیسی میں عدم تسلسل، کسٹمز کلیئرنس میں تاخیر اور غیر یقینی سیکیورٹی صورتحال تاجروں کو متبادل راستوں کی طرف دھکیل رہی ہے، ماہرین کے مطابق فوری اقدامات میں سرحدی گزرگاہوں کو 24 گھنٹے فعال بنانا، گوادر، کراچی اور کوئٹہ میں دبئی طرز کے فری ٹریڈ اور لاجسٹکس زون قائم کرنا، نجی شعبے کو ٹرانسپورٹ، کولڈ چین اور ویئرہاﺅسنگ میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینا اور ای-ٹی آئی آر کے تحت مکمل ڈیجیٹائزیشن شامل ہیں، مزید برآں کراچی سے تافتان اورطورخم تک مخصوص تیز رفتار ٹرانزٹ کوریڈورز، جی پی ایس مانیٹرنگ اور کم سے کم چیک پوسٹس کے ذریعے ایک موثر اور قابل اعتماد تجارتی نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ موقع مستقل نہیں بلکہ محدود وقت کے لیے دستیاب ہے اور اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو خطے کے دیگر ممالک کی سرمایہ کاری مستقبل کے تجارتی راستوں کا تعین کر دے گی جس سے پاکستان ایک بار پھر ایک بڑے معاشی موقع سے محروم ہو سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button