Breaking NewsEham KhabarExclusive Reports

کے آئی سی ٹی پر آپریشنل مسائل شدت اختیار کر گئے، کسٹمز حکام توہین عدالت اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لاسکتے ہیں

کراچی(کسٹم بلیٹن) کراچی انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل (کے آئی سی ٹی) پر جاری آپریشنل مسائل شدت اختیار کر گئے ہیں جس کے باعث کسٹمز کلیئرنس، تجارتی سہولت اور بندرگاہ کی مجموعی کارکردگی شدید متاثر ہونے لگی ہے۔ کسٹمز حکام نے کے آئی سی ٹی کی انتظامیہ کو ایک مراسلہ جاری کرتے ہوئے فوری اصلاحی اقدامات پر زور دیا ہے۔کسٹمز ذرائع کے مطابق گزشتہ کئی ماہ سے ٹرمینل پر کنٹینرز کی گراﺅنڈنگ میں تاخیر، سامان کی جانچ پڑتال میں رکاوٹیں اور فریٹ کلیئرنس کے عمل میں غیر معمولی تاخیر سامنے آ رہی اس حوالے سے کسٹمز کی جانب سے متعدد خطوط اور روزانہ کی بنیاد پر زبانی اور ٹیلی فونک رابطوں کے باوجود صورتحال میں خاطر خواہ بہتری نہیں آ سکی۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ کنسائمنس کی ایگزامنیشن کا انحصار بڑی حد تک ٹرمینل آپریٹر کی کارکردگی پر ہوتا ہے جس میں بروقت گرا ﺅنڈنگ، کنٹینرز کی سیل کھولنے اور کارگو کی دستیابی شامل ہے۔ ٹرمینل کے انتظامی مسائل کے باعث کنٹینرز کے کلیئرنس میں تاخیر ہو رہی ہے جس سے بندرگاہ پر کارگو کا قیام بڑھ رہا ہے۔کسٹمز حکام کے مطابق دسمبر 2025 سے ”کے آئی سی ٹی “پر کنٹینرز کی گراﺅنڈنگ کا مسلسل بیک لاگ موجود ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے دسمبر 2025 کے دوران درآمدی کارگو میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 13.54 فیصد اضافہ ہوا جبکہ کنسائمنٹس کی ایگزامنیشن میں31.25 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، تاہم ٹرمینل کی استعداد، جگہ، تربیت یافتہ عملہ اور کارگو ہینڈلنگ آلات میں اس تناسب سے اضافہ نہیں کیا گیا۔مراسلے میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ٹرمینل انتظامیہ کسٹمز ایکٹ 1969 کے سیکشن 14اے(2) کے تحت جاری ہونے والے ڈیلے اینڈ ڈیٹینشن سرٹیفکیٹس (ڈی ڈی سی) کو تسلیم نہیں کر رہی جو سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کی خلاف ورزی تصور کی جا رہی ہے۔ متعدد ایسے کیسز جن میں قانونی فورمز اور فیڈرل ٹیکس محتسب کی ہدایات پر درآمد کنندگان کو ڈیمرج کی ادائیگی کی سفارش کی گئی تھی، تاحال التواءکا شکار ہیں۔ کسٹمز حکام نے خبردار کیا ہے کہ اس طرز عمل پر توہین عدالت اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔کسٹمز نے مزید نشاندہی کی ہے کہ کنٹینرز کی گراو¿نڈنگ اور امتحان میں فرسٹ اِن فرسٹ آو¿ٹ(فی فو) اصول پر مکمل عمل نہیں کیا جا رہا۔ کے پی ٹی ویسٹ وارف پر اضافی جگہ حاصل کر کے روزانہ تقریبا100 کنٹینرز سنبھالنے کی گنجائش پیدا کی گئی تھی، تاہم یہ سہولت بھی مکمل طور پر استعمال نہیں ہو رہی اور روزانہ صرف40 سے 50 کنٹینرز ہی منتقل کیے جا رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق اضافی جگہ پر سیکیورٹی انتظامات، لیبر کی دستیابی اور کسٹمز رولز2001 کے رول554 کے تحت مقررہ طریقہ کار پر عملدرآمد میں بھی مسائل درپیش ہیں جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے۔کسٹمز حکام نے کے آئی سی ٹی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر گراو¿نڈنگ بیک لاگ ختم کرنے،فی فو اصول پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے، ڈیلے اینڈ ڈیٹینشن سرٹیفکیٹس پر عمل کرنے اور بڑھتے ہوئے کارگو کے مطابق اپنی آپریشنل استعداد میں اضافہ کرنے کیلئے جامع لائحہ عمل پیش کرے تاکہ بندرگاہ پر تجارتی سرگرمیاں متاثر ہونے سے بچائی جا سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button