ایران جنگ کے باعث پورٹ پر پھنسے کنٹینرزپر برآمدکنندگان کو جرمانوں سے استثنیٰ دیا جائے: خرم اعجاز

کراچی(کسٹم بلیٹن) ایران جنگ کے بعد پیدا ہونے والی غیر معمولی صورتحال کے باعث بندرگاہوں پر پھنسنے والے برآمدی کنٹینرز پر ڈیمریج، ڈیٹینشن اور فریٹ چارجز عائد کرنے کو غیرمنصفانہ قرار دیتے ہوئے حکومت سے فوری ریلیف دینے کا مطالبہ کیا ہے،ان خیالات کا اظہار فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق نائب صدر خرم اعجاز نے اپنے ایک بیان میں کیا۔انہوںنے بتایاکہ برآمدکنندگان پہلے ہی توانائی کے بلند نرخوں، بڑھتی لاجسٹکس لاگت اور عالمی طلب میں کمی جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، ایسے میں بندرگاہوں پر کنٹینرز پھنس جانے کے باعث ان پر اضافی مالی بوجھ ڈالنا نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ ملکی برآمدات کیلئے بھی نقصان دہ ثابت ہوگا، انہوں نے کہا کہ برآمدکنندگان نے اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے بروقت ادائیگیاں کیں، شپمنٹ بکنگ مکمل کیں اور کنٹینرز وقت پر بندرگاہوں تک پہنچائے تاہم ایران جنگ کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے باعث جہازوں کی آمد و رفت متاثر ہوئی جس سے سامان ٹرمینلز پر رک گیا، اس صورتحال کو فورس میجور قرار دیا جانا چاہیے کیونکہ تاخیر برآمدکنندگان کے کنٹرول سے باہر تھی، انہوں نے شپنگ لائنز اور پورٹ آپریٹرز کے غیر مربوط رویے پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کیس ٹو کیس بنیاد پر فیصلے مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں، اس کے بجائے ایک واضح اور یکساں پالیسی اپنائی جائے، خرم اعجاز نے وزارتِ بحری امور اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے مطالبہ کیا کہ 24 فروری سے 10 مارچ کے دوران بندرگاہوں پر آنے والے تمام کنٹینرز کو فورس میجور کے تحت قرار دے کر ڈیمریج، ڈیٹینشن اور فریٹ چارجز مکمل طور پر معاف کیے جائیں، انہوں نے تجویز دی کہ اگر شپنگ کمپنیاں یا ٹرمینل آپریٹرز اس مالی بوجھ کو برداشت کرنے سے قاصر ہوں تو حکومت کو چاہیے کہ عارضی سبسڈی یا سپورٹ میکانزم متعارف کروائے تاکہ برآمدکنندگان کو ریلیف فراہم کیا جا سکے، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس معاملے کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو نہ صرف برآمدات مزید کمزور ہوں گی بلکہ پاکستان کی عالمی منڈیوں میں ساکھ بھی متاثر ہوگی، انہوں نے زور دیا کہ موجودہ نازک حالات میں حکومت کو برآمدکنندگان کے مفادات کا تحفظ یقینی بنانا ہوگا۔



