برآمدی سہولت اسکیم (ای ایف ایس )میں غیرمعمولی ریلیف، مدت 18 ماہ کرنے کی تجویز

اسلام آباد(کسٹم بلیٹن)فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)نے کسٹمز رولز 2001 میں وسیع اور اہم ترامیم کا مسودہ جاری کرتے ہوئے برآمدی شعبے کو نمایاں سہولت دینے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ ایف بی آرکی جانب سے ایس آراو520کے مطابق برآمدی سہولت اسکیم (ای ایف ایس) کے تحت رجسٹرڈ صارفین کو اس بات کی اجازت دی جائے گی کہ اگر وہ مقررہ مدت سے قبل اپنی برآمدات مکمل کر لیتے ہیں تو وہ استعمال شدہ خام مال یا ان پٹ کی مالیت کے مساوی مزید ڈیوٹی فری درآمد کر سکیں گے، تاہم یہ سہولت صرف اسی صورت دستیاب ہوگی جب ان پٹ اور برآمدی اشیاءکی تفصیل، پی سی ٹی کوڈز اور ان پٹ آو¿ٹ پٹ ریشوز پہلے سے متعلقہ حکام یعنی آئی او سی او یا ریگولیٹری کلکٹر سے منظور شدہ ہوں۔مزید برآں مجوزہ ترمیم کے تحت ریگولیٹری کلکٹر کے کسی بھی حکم کے خلاف متاثرہ فریق کو 30 دن کے اندر متعلقہ چیف کلکٹر کے پاس اپیل کا حق دیا گیا ہے، جسے مزید 30 دن کے اندر نمٹانا لازمی ہوگا، اس اقدام سے کاروباری طبقے کو فوری انصاف کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔ اہم تبدیلی کے طور پر برآمدی مدت کو 9 ماہ سے بڑھا کر 18 ماہ (7 مارچ 2025 سے موثر) کرنے اور اس کے بعد مزید 6 ماہ کی اضافی توسیع دینے کی تجویز شامل کی گئی ہے، جس سے برآمد کنندگان کو پیداواری اور لاجسٹک مسائل سے نمٹنے میں آسانی ملے گی۔اسی طرح ای ایف ایس صارفین کو ہر چھ ماہ بعد تفصیلی مصالحتی بیان جمع کرانے کا پابند بنایا جائے گا جس میں درآمد شدہ ان پٹ، برآمدات، مقامی فروخت، ویلیو ایڈیشن اور ضائع شدہ مال کی تفصیلات شامل ہوں گی۔ ایف بی آر نے اس اہم مسودے پر دو دن کے اندر کاروباری برادری اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے اعتراضات اور تجاویز طلب کر لی ہیں، جس کے بعد حتمی ترامیم متعارف کرائی جائیں گی۔



