Breaking NewsEham Khabar

فاٹا/پاٹاکے صنعتی یونٹس کی رعایتی درآمدات کی نقل وحرکت کومحفوظ بنانے کے لئے نیاکسٹمزجنرل آرڈرجاری

اسلام آباد(کسٹم بلیٹن )فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے فاٹا اور پاٹا کے صنعتی یونٹس کے لئے رعایتی سیلز ٹیکس پر درآمد ہونے والے پلانٹ، مشینری، آلات اور صنعتی خام مال کی محفوظ ترسیل اور شفاف کلیئرنس کو یقینی بنانے کے لئے نیا کسٹمز جنرل آرڈر8/2025 جاری کر دیا ہے۔ نیا حکم نامہ ا±ن صنعتی یونٹس پر لاگو ہوگا جو سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی آٹھویں شیڈول کی شق89 کے تحت رعایتی شرح ٹیکس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔نئے طریقہ کار ایف بی آرپہلے سے نافذکردہ سی جی او01/2021کاتسلسل ہے ۔ وفاقی حکومت نے2018 میںفاٹااورپاٹاکے صنعتی شعبے کی بحالی اور ترقی کے لئے ایس آراو1212اورایس آراو1213کے ذریعے سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کی خصوصی چھوٹ فراہم کی تھی۔ بعد میں فنانس ایکٹ 2019 کے تحت ان رعایات کو باقاعدہ قانونی شکل دیتے ہوئے سیلز ٹیکس ایکٹ کی چھٹے شیڈول کے سیریل 151اور انکم ٹیکس آرڈیننس کی سیکشن159 میں شامل کردیا گیا۔ایس آراوکے تحت 2018سے مارچ2021تک فاٹاارپاٹاکے صنعتی یونٹس اپنی مشینری، آلات اور خام مال کی درآمدات کراچی پورٹ کے ذریعے کراتے رہے۔ لیکن آباد علاقوں کے صنعتکاروں کی جانب سے اس عمل پر اعتراضات سامنے آئے کہ مراعاتی سامان کی نقل و حرکت میں بے ضابطگیوں کا خدشہ موجود ہے۔ ان تحفظات کے بعد ایف بی آر نے سی جی او01کے ذریعے یہ شرط لگائی کہ تمام رعایتی درآمدات کی کلیئرنس ازاخیل ڈرائی پورٹ سے مانیٹرنگ اینڈٹریکنگ کارگورولز کے تحت بانڈڈ کیریئر سسٹم میں کی جائے تاکہ سامان کی مکمل نگرانی اور ٹریکنگ ممکن ہو۔بعد ازاں فنانس ایکٹ2025 میں سابقہ مکمل ٹیکس چھوٹ کو جزوی طور پر ختم کرتے ہوئے مرحلہ وار10 فیصد سیلز ٹیکس نافذ کیا گیا، جبکہ اڑاخیل ڈرائی پورٹ سے کلیئرنس اور ٹریکنگ کی شرط برقرار رہی۔ اس فیصلے کو کئی صنعتی یونٹس نے پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا، جہاں انہیں عبوری طور پر کراچی پورٹ سے بغیر ٹریکنگ اور بغیر بانڈڈ کیریئر کے کلیئرنس کی اجازت ملی۔ تاہم بعد ازاں عدالت نے حتمی فیصلے میں یہ قرار دیا کہ ایف بی آر نیا، شفاف اور مو¿ثر طریقہ کار جاری کر سکتا ہے۔عدالتی فیصلے کے بعد ایف بی آر کی جانب سے سی جی او08 جاری کرتے ہوئے پورا نظام دوبارہ فعال کر دیا ہے۔ اس نئے حکم نامے کے تحت تمام رعایتی درآمدات کی کلیئرنس لازمی طور پر ازاخیل ڈرائی پورٹ سے ہوگی اور سامان کی نقل و حرکت مانیٹرنگ اینڈٹریکنگ کارگورولز 2023 کے مطابق موثر ٹریکنگ اور نگرانی میں مکمل شفافیت کے ساتھ کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد نہ صرف سامان کی محفوظ ترسیل کو یقینی بنانا ہے بلکہ آباد علاقوں کے صنعتکاروں کے خدشات دور کرتے ہوئے مراعاتی نظام کو بدنیتی سے بچانا بھی ہے۔ایف بی آر کا کہنا ہے کہ نیا طریقہ کار صنعتی یونٹس کو دی جانے والی حکومتی مراعات کے غلط استعمال کو روکنے، اسمگلنگ اور ٹیکس کے ممکنہ نقصان کو کم کرنے اور پورے نظام کو شفاف بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button