Breaking NewsEham Khabar

ایف بی آر کی ایکسپورٹ فیسلٹیشن اسکیم میں اہم ترامیم کی تجویز، ڈیوٹی فری درآمد اور اپیل کے طریقہ کار میں نرمی متوقع

اسلام آباد(کسٹم بلیٹن) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کسٹمز رولز 2001 میں مزید ترامیم کا مسودہ جاری کرتے ہوئے ایکسپورٹ فیسلٹیشن اسکیم (ای ایف ایس) سے متعلق قوانین میں اہم تبدیلیوں کی تجویز دے دی ہے۔ ایس آر او 211 کے ذریعے جاری مجوزہ ترامیم پر متعلقہ افراد اور کاروباری حلقوں سے سات روز کے اندر اعتراضات اور تجاویز طلب کر لی گئی ہیں۔ایف بی آر کی جانب سے جاری مسودے کے مطابق ایکسپورٹ فیسلٹیشن اسکیم کے تحت درآمدی خام مال کے استعمال، ڈیوٹی فری درآمد کے نظام اور اپیل کے طریقہ کار کو مزید سہل بنانے کیلئے مختلف قواعد میں ترمیم تجویز کی گئی ہے۔مجوزہ ترمیم کے مطابق رول 875 میں لفظ یوٹی لائزیشن” کی جگہ آتھرائزیشن کا لفظ استعمال کیا جائے گا، جس کا مقصد اسکیم کے تحت اجازت ناموں اور خام مال کے استعمال کے طریقہ کار کو واضح بنانا ہے۔اسی طرح رول 878 میں نئی شق شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے جس کے تحت اگر کوئی ایکسپورٹ فیسلٹیشن اسکیم کا صارف مجاز خام مال کو مکمل یا جزوی طور پر استعمال کر کے تیار شدہ مصنوعات مقررہ مدت سے پہلے برآمد کر دیتا ہے تو اسے پہلے استعمال ہونے والے خام مال کی مالیت کے برابر ڈیوٹی فری خام مال درآمد کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ تاہم یہ سہولت اسی صورت دستیاب ہوگی جب درآمدی اور برآمدی اشیاءکی تفصیل اور پی سی ٹی کوڈ وہی ہوں گے جو پہلے سے متعلقہ اداروں یعنی آئی او سی او یا ریگولیٹری کلکٹر کی جانب سے منظور شدہ ہوں گے۔مزید یہ کہ اگر ان پٹ آو¿ٹ پٹ ریشوز کی منظوری یا عبوری منظوری متعلقہ حکام سے حاصل نہ کی گئی ہو تو اس سہولت سے فائدہ نہیں اٹھایا جا سکے گا۔مجوزہ ترامیم کے تحت رول 879 میں نئی شق شامل کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے جس کے مطابق ریگولیٹری کلکٹر کی جانب سے جاری کسی بھی حکم کے خلاف متعلقہ چیف کلکٹر کے سامنے تیس دن کے اندر اپیل دائر کی جا سکے گی، جبکہ چیف کلکٹر اپیل پر تیس دن کے اندر فیصلہ کرنے کے پابند ہوں گے۔ذرائع کے مطابق ان ترامیم کا مقصد برآمدات کے فروغ کیلئے ایکسپورٹ فیسلٹیشن اسکیم کو مزید موثر بنانا، برآمدکنندگان کو سہولت فراہم کرنا اور انتظامی امور میں شفافیت اور تیزی لانا ہے۔ایف بی آر نے اعلان کیا ہے کہ مجوزہ ترامیم سرکاری گزٹ میں اشاعت کے بعد سات دن کے اندر موصول ہونے والی تجاویز اور اعتراضات کو حتمی فیصلہ کرنے سے قبل زیر غور لایا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button