Breaking NewsEham KhabarExclusive Reports

ٹیمپر گاڑیوں کے استعمال اور فروخت کیلئے ایف بی آر کی نئی پالیسی نافذ

اسلام آباد(کسٹم بلیٹن) فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ضبط شدہ اور ٹیمپرڈ چیسز نمبر رکھنے والی گاڑیوں کے استعمال، الاٹمنٹ اور حتمی تلفی کیلئے نئی جامع پالیسی جاری کر دی ہے، جسے کسٹمز جنرل آرڈر نمبر 04 آف 2026 کے تحت نافذ کیا گیا ہے اور اس پر یکم اپریل 2026 سے عملدرآمد شروع ہو گیا ہے، نئی پالیسی کے مطابق اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں پکڑی جانے والی ایسی گاڑیاں سب سے پہلے ایف بی آر کے کسٹمز ونگ کی مختلف فارمیشنز کو سرکاری استعمال کیلئے فراہم کی جائیں گی، اس مقصد کیلئے متعلقہ دفاتر کو اپنی ضروریات کے مطابق تفصیلی کیسز اور جواز پیش کرنا ہوگا جن کا جائزہ ممبر کسٹمز آپریشنز کی سربراہی میں قائم کمیٹی لے گی، پالیسی میں واضح کیا گیا ہے کہ 1800 سی سی سے زائد گاڑیاں ترجیحی بنیادوں پر انفورسمنٹ اور اینٹی اسمگلنگ یونٹس کو دی جائیں گی جبکہ گریڈ 19 کے افسران کو 1800 سی سی تک کی گاڑیاں فراہم کی جا سکیں گی، دور دراز اور مشکل علاقوں خصوصاً بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں تعینات افسران کیلئے خصوصی رعایت اور سہولت بھی رکھی گئی ہے، شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے ایف بی آر ایک جدید ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم متعارف کروا رہا ہے جس میں ہر ضبط شدہ گاڑی کا مکمل ریکارڈ، فرانزک رپورٹ، تصاویر، فزیکل کنڈیشن اور عدالتی حیثیت اپ لوڈ کی جائے گی جبکہ اس نظام تک کابینہ ڈویڑن کو بھی رسائی دی جائے گی تاکہ نگرانی کا عمل موثر بنایا جا سکے، پالیسی کے تحت اندرونی ضروریات پوری ہونے کے بعد بچ جانے والی گاڑیاں صرف سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کو فروخت کی جائیں گی اور نجی افراد کو فروخت پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، وفاقی اداروں کو یہ گاڑیاں ریزرو پرائس کے 15 فیصد جبکہ صوبائی اداروں کو 50 فیصد قیمت پر فراہم کی جائیں گی اور قیمتوں کا تعین گاڑی کی حالت، ماڈل اور مارکیٹ ویلیو کے مطابق کیا جائے گا، ادائیگی کا طریقہ کار بھی سخت کر دیا گیا ہے اور تمام ادائیگیاں سرکاری اکاﺅنٹس کے ذریعے کی جائیں گی جن کی تصدیق اکاﺅنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو کرے گا، ادائیگی کی تصدیق کے بعد گاڑی صرف مجاز نمائندے کو اسلام آباد میں ایکسائز رجسٹریشن مکمل ہونے کے بعد فراہم کی جائے گی جبکہ خریدار ادارے کو تین ہفتوں کے اندر وصولی کی باضابطہ تصدیق دینا لازم ہوگا، پالیسی میں مزید کہا گیا ہے کہ گاڑیوں کی سروس لائف مکمل ہونے پر انہیں سخت نگرانی میں تلف کیا جائے گا، 1800 سی سی سے زائد گاڑیاں عموماً 20 سال جبکہ 1800 سی سی تک کی گاڑیاں 15 سال بعد ختم کر دی جائیں گی، ایسی گاڑیاں جو پانچ سال تک فروخت نہ ہو سکیں انہیں بھی ضابطے کے تحت ناکارہ بنا دیا جائے گا جبکہ بعض صورتوں میں بسوں اور وینز کو سرکاری اداروں کو مفت فراہم کیا جا سکے گا، ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ نئی پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے گا، باقاعدہ آڈٹ کیے جائیں گے اور کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں الاٹمنٹ منسوخ، گاڑیاں ضبط اور ذمہ دار افسران کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، اس اقدام کو سرکاری وسائل کے موثر استعمال، شفافیت کے فروغ اور بہتر گورننس کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button