ایف ٹی اوکا اربوں روپے کی چوری پر جیریزڈناٹاکا لائسنس معطل کرنے کا حکم

کراچی (کسٹم بلیٹن)وفاقی ٹیکس محتسب اربوں روپے کی چوری پر سخت نوٹس لیتے ہوئے ایف بی آر کو ہدایت کی ہے کہ جیریز ڈیناٹا کے تمام ملک گیر شیڈز کا گزشتہ تین برس کا امپورٹ و ایکسپورٹ آڈٹ کیا جائے، جبکہ کراچی ایئرپورٹ کے شیڈ کا لائسنس فوری طور پر شوکاز نوٹس جاری کرکے معطل کرنے اور الزامات ثابت ہونے کی صورت میں مکمل طور پر منسوخ کرنے کی کارروائی عمل میں لائی جائے،ایف ٹی او کے مطابق ممبر کسٹمز (آپریشنز) کلکٹر کسٹمز جے آئی اے پی کراچی کو فوری احکامات جاری کردیئے کہ اس بڑے اسکینڈل میں ملوث کسٹمز اہلکاروں کے کردار کی مکمل تحقیقات کی جائیں اورتمام ترتحقیقات مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار ملازمین کے خلاف تادیبی کارروائی کروائی جائے، ایف ٹی اوکے مطابق یو اے ای کی کارگو ہینڈلنگ کمپنی جیریز ڈیناٹا میںگزشتہ 18 ماہ سے اربوں روپے کے درآمدی سامان کی کسٹمز تحویل سے چوری اور مختلف جعلی کمپنیوں تک ترسیل میں ملوث ہے جبکہ اس دھوکہ دہی میں ان کے ملازمین اور کسٹمز اہلکاروں کی ملی بھگت کے شواہد موجود ہیں، تحقیقات کے مطابق مارچ 2024 سے اب تک قیمتی الیکٹرانکس کی چھ کنسائمنٹس، جعلی جی ڈیز، فرضی دستاویزات اور پہلے سے پروسیس شدہ ادویات کے ڈیٹا کے مشین نمبرز استعمال کرتے ہوئے خفیہ طور پر شیڈ سے باہر نکالی گئیں جبکہ تمام درآمدی کمپنیاں بھی جعلی ثابت ہوئیں جن کے کاروباری پتے اور تفصیلات غلط نکلیں، ایف ٹی او نے اپنی رپورٹ میں اعتراف کیا کہ کلکٹرکسٹمز کراچی اور کسٹمز ڈپارٹمنٹ نے اس اسکینڈل کا سراغ لگانے اور چند ملزمان کی گرفتاری میں اہم کردار ادا کیا تاہم مستقبل میں اس طرح کی سنگین وارداتوں کی روک تھام کیلئے مزید سخت اقدامات ناگزیر ہیں کیونکہ اس نوعیت کے بڑے جرائم متعلقہ کسٹمز عملے کی فعال ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں، ایف ٹی او نے واضح کیا کہ جیریز ڈیناٹا کسٹمز ایکٹ 1969 اور کسٹمز رولز548 تا556 ای کے تحت لائسنس یافتہ ٹرمینل آپریٹر ہے اور قوانین کی خلاف ورزی و نگرانی میں غفلت کسٹمز ڈپارٹمنٹ کی بدانتظامی کا واضح ثبوت ہے جو ماضی میں کراچی ایئرپورٹ پر اس نوعیت کے واقعات پہلے بھی سامنے آچکے ہیں۔




