بیگیج کے کنسائمنٹس کی کلیئرنس میں تاخیر کے خلاف اقدام، پرامٹ سروس نے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا

کراچی(کسٹم بلیٹن) بیگیج کنسائمنٹس کی کلیئرنس میں مبینہ غیر ضروری تاخیر اور کسٹمز حکام کی نا تجربہ کاری کے خلاف میسرزپرامٹ سروس سینڈیکیٹ کے وکیل ایڈوکیٹ منیرحق نے باقاعدہ قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی ہے۔ذرائع کے مطابق بیگیج ڈیکلریشن جمع کرانے اور مقررہ ڈیوٹی و ٹیکسز کی ادائیگی کے باوجود کنسائمنٹس کی کلیئرنس میں غیر معمولی تاخیر کی جارہی ہے، جس کے باعث مسافروں کو مالی نقصان اور ذہنی اذیت کا سامنا ہے۔ میسرزپرامٹ سروس سینڈیکیٹ کاموقف ہے کہ متعلقہ کسٹمز حکام کی نا تجربہ کاری، غیر ضروری اعتراضات اور قواعد کی غلط تشریح کے باعث جائز کنسائمنٹس بھی بندرگاہ پر روکے جا رہے ہیں۔مذکورہ کمپنی کاکہناہے کہ بیگیج رولز کے تحت مسافروں کے سامان کی کلیئرنس ایک واضح اور سادہ طریقہ کار کے مطابق ہونی چاہیے، تاہم عملی طور پر اس عمل کو پیچیدہ بنا دیا گیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ بیگیج کن کو عام تجارتی درآمدات کی طرح ہینڈل کیا جا رہا ہے جو قواعد و ضوابط کی روح کے منافی ہے۔مذکورہ کمپنی نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ کسٹم حکام کی جانب سے غیر ضروری تاخیر نہ صرف کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کر رہی ہے بلکہ بندرگاہی نظام میں بھی رکاوٹ کا سبب بن رہی ہے۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی جائے کہ بیگیج کنسائمنٹس کی کلیئرنس قواعد کے مطابق اور بلا تاخیر یقینی بنائی جائے۔تجارتی حلقوں نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے تاکہ بیگیج کلیئرنس کے عمل کو شفاف اور تیز بنایا جا سکے اور کاروباری اعتماد کو بحال رکھا جا سکے۔

