Breaking NewsEham Khabar

ایف بی آر کا سخت ایکشن: انسپکٹر ان لینڈ ریونیو محمد اسماعیل کو جبری ریٹائرمنٹ کی سزا

اسلام آباد(کسٹم بلیٹن) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے بدعنوانی اور بدانتظامی کے الزامات ثابت ہونے پر ان لینڈ ریونیو کے افسر محمد اسماعیل کے خلاف بڑا فیصلہ سناتے ہوئے انہیں جبری ریٹائرمنٹ کی سزا دے دی ہے۔جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق محمد اسماعیل، انسپکٹر ان لینڈ ریونیو میں تعینات ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن (آئی آر) پشاور، کے خلاف 26 ستمبر 2025 کو باقاعدہ انکوائری کا آغاز کیا گیا تھا۔ ان پر ایک بی ایس19افسر کے ساتھ مل کر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ انکوائری آفیسر عظمیٰ منیر، کمشنر ان لینڈ ریونیو آر ٹی او اسلام آباد نے 30 دسمبر 2025 کو اپنی رپورٹ میں تمام الزامات کو ثابت قرار دیتے ہوئے بڑی سزا دینے کی سفارش کی تھی۔تفصیلات کے مطابق انکوائری کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ محمد اسماعیل نے 11 جولائی 2025 کومیسرزبیوریج سن سلیس پر چھاپے کے دوران تیار کردہ کنٹروینشن رپورٹ میں گرین لیف (کچا تمباکو) کی موجودگی کو چھپایا یا اس کا ذکر نہیں کیا۔ ذاتی سماعت کے دوران، جو 16 مارچ 2026 کو چیئرمین ایف بی آر کے سامنے ہوئی، افسر نے موقف اختیار کیا کہ گرین لیف قابل ٹیکس یا ایکسائز آئٹم نہیں، اس لیے اسے رپورٹ میں شامل نہیں کیا گیا، جبکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں سینئر حکام کی جانب سے تمباکو سے متعلق معاملات میں کارروائی کا اختیار نہیں تھا۔تاہم حکام نے اس موقف کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ چاہے ٹیکس لاگو ہوتا یا نہیں، افسر کے لیے لازم تھا کہ وہ تمام حقائق کنٹروینشن رپورٹ میں درج کرتے۔ افسر اس حوالے سے کوئی معقول وضاحت پیش کرنے میں ناکام رہے۔تمام شواہد، انکوائری رپورٹ، تحریری و زبانی مو¿قف کا جائزہ لینے کے بعد چیئرمین ایف بی آر نے بطور مجاز اتھارٹی سول سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلنری) رولز 2020 کے تحت محمد اسماعیل پر سزادیتے ہوئے جبری ریٹائرمنٹ نافذ کر دی۔نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ مذکورہ افسر کو اس فیصلے کے خلاف سول سرونٹس (اپیل) رولز 1977 کے تحت 30 روز کے اندر اپیل دائر کرنے کا حق حاصل ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button