ٹرانس شپمنٹ نظام میں بڑی اصلاحات، 100 فیصد اسکینگ لازمی قرار

اسلام آباد(کسٹم بلیٹن) فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے انٹرنیشنل ٹرانس شپمنٹ رولز میں جامع اور دور رس اثرات کی حامل ترامیم کا مسودہ جاری کیا ہے جس کا مقصد ملک میں کارگو کی نقل و حرکت کے نظام کو مزید شفاف، محفوظ اورموثر بنانا ہے۔ مجوزہ ترامیم کے تحت پہلی مرتبہ فضائی کارگو، آف ڈاک ٹرمینلز اور گراﺅنڈ ہینڈلنگ ایجنٹس کو باضابطہ طور پر ٹرانس شپمنٹ نظام کا حصہ بنایا جا رہا ہے، جس سے بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کے درمیان کارگو کی منتقلی کا دائرہ وسیع ہو جائے گا۔ترامیم کے مطابق ٹرانس شپمنٹ کارگو کی ہر مرحلے پر 100 فیصد اسکینگ لازمی ہوگی، جبکہ اسکینگ میں کسی بھی تضاد کی صورت میں مکمل فزیکل جانچ کی جائے گی اور سنگین بے ضابطگی کی صورت میں متعلقہ شپنگ لائن یا ایئر لائن کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ مزید یہ کہ کارگو میں کمی، چوری یا غلط بیانی کی صورت میں شپنگ لائن، ایئر لائن، ٹرمینل آپریٹر اور او ڈی ٹی/جی ایچ اے سب کو مشترکہ طور پر ڈیوٹی اور ٹیکس کی ادائیگی کا ذمہ دار قرار دیا جائے گا۔چیف کلکٹر کو غیر معمولی اختیارات بھی دینے کی تجویز ہے جس کے تحت وہ کسی بھی او ڈی ٹی، جی ایچ اے یا شپنگ/ایئر لائن کی جانب سے قواعد کی خلاف ورزی یا ملکی کارگو کی کلیئرنس میں رکاوٹ پیدا ہونے کی صورت میں تین دن کے نوٹس کے بعد ٹرانس شپمنٹ کی نقل و حرکت معطل کر سکتا ہے۔ مزید برآں تمام متعلقہ آپریٹرز کو ہر ماہ کی پانچ تاریخ تک تفصیلی رپورٹ جمع کرانا لازمی ہوگا۔ ایف بی آر نے اس مسودے پر صرف ایک دن کے اندر اعتراضات طلب کیے ہیں، جو اس معاملے کی فوری نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔



