Breaking NewsEham Khabar

ایکسپورٹ فسی لیٹیشن اسکیم میں اربوں کا تنازع، تائیگا اپیرل پر جرمانہ

لاہور(کسٹم بلیٹن) وفاقی ٹیکس محتسب نے میسرز تائیگا اپیرل (پرائیویٹ) لمیٹڈ کی جانب سے دائر شکایت پر غور و فکر کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے کمپنی پر 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا اور واضح کیا کہ کمپنی کا دعویٰ کہ ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم کے تحت برآمد کی گئی 1408 کنسائنمنٹس محض کلریکل ایرر کی وجہ سے کمرشل ہیڈ کے تحت فائل ہو گئیں، درست نہیں ہے، پوسٹ کلیئرنس آڈٹ کی رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ اس عمل سے تقریباً 1.9 ارب روپے کے ڈیوٹی و ٹیکسز کا فرق پیدا ہوا اور محتسب نے تفصیلی ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ یہ محض کلریکل غلطی نہیں بلکہ غیر قانونی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش ہے، فیصلہ میں کہا گیا کہ کمپنی نے نہ صرف محکمہ کسٹمز بلکہ محتسب کے فورم کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش کی اور محکمہ کی کارروائی قانون کے مطابق تھی، کسی قسم کی بدانتظامی ثابت نہیں ہوئی، چنانچہ ایف ٹی او آرڈیننس دو ہزار کے تحت کمپنی پر 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا اور ہدایت کی گئی کہ اگر رقم تیس دن کے اندر جمع نہ کرائی گئی تو کسٹمز ایکٹ 1969 کے تحت ریکوری کی جا سکتی ہے، ماہرین اور تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ فیصلہ اس امر کی واضح مثال ہے کہ محتسب کا فورم صرف سرکاری اداروں کی کوتاہیوں پر نظر نہیں رکھتا بلکہ بدنیتی پر مبنی شکایات کے خلاف بھی سخت موقف اختیار کرتا ہے، فیصلے سے یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ ایکسپورٹ کے نظام میں شفافیت اور قانونی تقاضوں کی پاسداری ہر کمپنی کے لیے لازمی ہے اور غیر قانونی فائدے کے حصول کے لیے کسی قسم کی چالاکی یا دستاویزات میں تبدیلی برداشت نہیں کی جائے گی، اس کیس سے یہ بھی واضح ہوا کہ محتسب کے اقدامات سے نہ صرف قانونی نظام کی ساکھ مضبوط ہوگی بلکہ تجارتی ادارے بھی اپنی کارروائیوں میں احتیاط اور شفافیت اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے، تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایسے فیصلے مستقبل میں بدنیتی پر مبنی شکایات اور غیر قانونی اقدامات کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوں گے اور سرکاری و نجی شعبے میں ذمہ داری، شفافیت اور اعتماد کو فروغ دیں گے، محتسب کے اس اقدام نے واضح کر دیا کہ کوئی بھی ادارہ قانون کی بالادستی کو نظر انداز نہیں کر سکتا اور ہر کمپنی کو اپنی کارروائیوں میں شفاف اور قانونی رہنمائی کے مطابق عمل کرنا لازمی ہے تاکہ مستقبل میں اربوں روپے کے ٹیکس اور ڈیوٹی کے تنازعات سے بچا جا سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button