جہازوں سے حاصل ہونے والے اسکریپ کی نیلامی کا نیا نظام متعارف

کراچی(کسٹم بلیٹن) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کسٹمز رولز 2001 میں اہم ترمیم کا مسودہ جاری کرتے ہوئے جہازوں سے حاصل ہونے والے غیر درج شدہ اسکریپ اور باقی ماندہ سامان کی نیلامی کا نیا طریقہ کار متعارف کرانے کی تجویز دے دی ہے۔ اس حوالے سے ایس آر او 227 جاری کرتے ہوئے متعلقہ شعبوں اور اسٹیک ہولڈرز سے سات روز کے اندر اعتراضات اور تجاویز طلب کر لی گئی ہیں۔ایف بی آر کی جانب سے جاری مسودے کے مطابق کسٹمز رولز کے باب پنجم (آکشن) میں رول 71 کے بعد نیا رول(71اے )شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے تحت جہازوں سے حاصل ہونے والے ایسے اسکریپ یا باقی ماندہ سامان کی نیلامی کا واضح طریقہ کار مقرر کیا جائے گا جو کارگو مینی فیسٹ میں درج نہیں ہوتا۔ ان اشیاءمیں لوہے اور اسٹیل کی لیشنگ اسکریپ، وائر روپس اسکریپ، ٹوٹے ہوئے پیلیٹس، لکڑی کا اسکریپ اور کنٹینرز یا ڈھیلے کارگو کو محفوظ رکھنے کے لئے استعمال ہونے والا باقی سامان شامل ہوگا۔مجوزہ ترمیم کے تحت اس قسم کے غیر درج شدہ اسکریپ کی نیلامی ٹرمینل آپریٹرز یا متعلقہ کسٹوڈین کے ذریعے جائے گی، تاہم نیلامی کی کم از کم قیمت (ریزرو پرائس) کسٹمز حکام مقرر کریں گے۔ نیلامی سے حاصل ہونے والی مکمل رقم بشمول تمام قابل اطلاق ڈیوٹیز اور ٹیکسز سامان کی حوالگی سے قبل سرکاری خزانے میں جمع کرانا لازمی ہوگا۔ایف بی آر نے ٹرمینل آپریٹرز کو پابند کرنے کی بھی تجویز دی ہے کہ وہ ہر ماہ تفصیلی رپورٹ جمع کرائیں گے جس میں نیلام کئے گئے اسکریپ کی تفصیلات اور سرکاری خزانے میں جمع کروائی گئی رقم کا مکمل ریکارڈ شامل ہوگا تاکہ شفافیت اور ریونیو کی نگرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔ذرائع کے مطابق اس مجوزہ ترمیم کا مقصد جہازوں سے حاصل ہونے والے غیر ظاہر شدہ اسکریپ کی نیلامی کے عمل کو باقاعدہ قانونی فریم ورک میں لانا، ریونیو کے ممکنہ نقصانات کو روکنا اور نیلامی کے عمل میں شفافیت پیدا کرنا ہے۔ اس اقدام سے پورٹ آپریٹرز، کسٹمز حکام اور متعلقہ کاروباری حلقوں کے لئے واضح طریقہ کار فراہم ہوگا۔ایف بی آر نے کہا ہے کہ مجوزہ ترمیم پر متعلقہ افراد اور ادارے سرکاری گزٹ میں اشاعت کے بعد سات دن کے اندر اپنی تجاویز اور اعتراضات جمع کرا سکتے ہیں، جنہیں حتمی فیصلے سے قبل غور کے لئے شامل کیا جائے گا۔



