ایف بی آر میں10 فیصد خواتین کوٹہ پر عملدرآمد نہ ہونے کا انکشاف، بورڈ نے تمام کسٹمز فارمیشنز کو آخری وارننگ جاری کر دی

اسلام آباد(کسٹم بلیٹن)فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں وفاقی حکومت کے طے شدہ10 فیصد خواتین کوٹہ پر عملدرآمد کے حوالے سے سنگین غفلت اور تاخیر کا انکشاف ہوا ہے۔ ایف بی آر کی جانب سے پاکستان بھر میں قائم کسٹمز کی تمام کلکٹریٹس اور ڈائریکٹوریٹس کو ایک بار پھرسخت یاددہانی جاری کرتے ہوئے مطلوبہ معلومات فوری طور پر فراہم کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق ایف بی آر نے اس سے قبل 11 نومبر2025کو خواتین کوٹہ کے نفاذ سے متعلق ایک سرکلر جاری کیا تھا، جس کے بعد 3 دسمبر2025 کو باقاعدہ یاددہانی بھی کروائی گئی۔ تاہم اس کے باوجود متعدد کسٹمز فارمیشنز کی جانب سے وہ معلومات فراہم نہیں کی گئیں جو 8 دسمبر2025تک بورڈ کو ارسال کی جانی تھیں۔ایف بی آر ذرائع کے مطابق اب بورڈ نے ایک مرتبہ پھر تمام متعلقہ دفاتر کو آخری موقع دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ خواتین کوٹہ کے حوالے سے مطلوبہ ڈیٹا 16 جنوری2026 تک ہر صورت بورڈ کو ارسال کیا جائے تاکہ اسے بروقت اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو بھجوایا جا سکے۔بورڈ کی جانب سے جاری مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ تاخیر یا عدم تعمیل کی صورت میں ذمہ دار افسران کے خلاف انتظامی کارروائی کا امکان بھی خارج از امکان نہیں۔ مراسلے میں اس معاملے کوفورطورپرحل کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں ہیںکہ تمام کلکٹرز اور ڈائریکٹر جنرلز کو ذاتی نگرانی میں معلومات بھجوانے کی ہدایت کی گئی ہے۔یہ مراسلہ ملک بھر میں قائم کسٹمز انفورسمنٹ، اپریزمنٹ، انٹیلی جنس، ویلیوایشن، پوسٹ کلیئرنس آڈٹ، ٹرانزٹ ٹریڈ، ریفارمز اینڈ آٹومیشن، ایڈجیوڈیکیشن اور اپیلز سمیت کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ، ملتان، فیصل آباد، حیدرآباد اور گوادر سمیت دیگر اہم شہروں میں موجود تمام کسٹمز فارمیشنز کو ارسال کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق خواتین کو سرکاری ملازمتوں میں مساوی نمائندگی دینا وفاقی حکومت کی ایک اہم پالیسی ہے، تاہم ایف بی آر کے ماتحت محکموں میں اس پالیسی پر عملدرآمد میں مسلسل تاخیر انتظامی کمزوریوں کی عکاسی کرتی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے بھی سختی متوقع ہے اور اگر مقررہ تاریخ تک معلومات موصول نہ ہوئیں تو متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔



