ایران کوریڈور فعال، کراچی سے ازبکستان کے لیے پہلی ٹی آئی آر برآمدی کنسائمنٹس روانہ، پاکستان کی وسطی ایشیائی منڈیوں تک رسائی میں بڑی پیش رفت

کراچی (کسٹم بلیٹن )پاکستان کے تجارتی اور ٹرانزٹ شعبے میں ایک اہم سنگِ میل قائم ہو گیا ہے جہاں کراچی سے ایران کے راستے وسطی ایشیا کے لیے پہلے ٹی آئی آر برآمدی کنسائمنٹس کامیابی کے ساتھ روانہ کر دیئے گئے ہیں،تفصیلا ت کے مطابق ٹی آئی آرکے ذریعے اعلیٰ معیارکا گوشت ازبکستان برآمدکیاگیاہے ،ذرائع کے مطابق نئی راہداری کے تحت کنسائمنٹس گودارکے قریب گبد بارڈر کراسنگ سے گزر کر ایران کے ریمدان بارڈر میں داخل ہوں گے اور وہاں سے وسطی ایشیائی ریاستوں تک زمینی راستے کے ذریعے پہنچے گا
، اس پیش رفت کو پاکستان کے لیے ایک اسٹریٹجک کامیابی قرار دیا جا رہا ہے جو نہ صرف برآمدات میں اضافہ کرے گی بلکہ علاقائی رابطوں کو بھی نئی جہت دے گی،ذرائع کے مطابق ایران کوریڈور کے فعال ہونے سے پاکستان کو سمندری راستوں پر انحصار کم کرتے ہوئے ایک متبادل اور کم لاگت تجارتی راستہ میسر آئے گا جس سے ٹرانزٹ ٹائم میں کمی اور کاروباری لاگت میں خاطر خواہ کمی ممکن ہوگی، کراچی میں بی اوایم ایل،سی ایف ایس پر منعقدہ ایک پروقار تقریب میں ڈائریکٹر جنرل ٹرانزٹ ثناءاللہ ابڑو اور ڈائریکٹر ٹرانزٹ محمد راشد نے پہلے دوکنسائمنٹس ریفرٹی آئی آر گاڑیوں کو باقاعدہ روانہ کیا، اس موقع پر ٹی آئی آر آپریٹر کمپنی میسرزبورڈپیک لاجسٹک کے نمائندوں میں شامل فرحان صدیقی اور محمد طیب کے علاوہ دیگر ممتاز کاروباری شخصیات جبکہ پی او ایم ایل سی ایف ایس کی سینئر انتظامیہ اورپی این سی، آئی سی سی کے چیئرمین بھی موجود تھے، حکام کا کہنا تھا کہ گوادر کے قریب گبد بارڈر کے موثر استعمال سے نہ صرف پاکستان، ایران اور وسطی ایشیا کے درمیان تجارتی روابط مضبوط ہوں گے بلکہ گوادر کی حیثیت ایک اہم علاقائی تجارتی و لاجسٹک مرکز کے طور پر مزید مستحکم ہوگی،
انہوں نے اس اقدام کو پاکستان کے ٹرانزٹ سسٹم کی بہتری، بین الاقوامی تجارت کے فروغ اور ملکی معیشت کے استحکام کی جانب ایک عملی قدم قرار دیا، ماہرین اور کاروباری حلقوں نے توقع ظاہر کی ہے کہ اس راہداری کے ذریعے آئندہ مہینوں میں تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوگا، جبکہ کسٹمز حکام،پی این سی،آئی سی سی ، ٹی آئی آر آپریٹرز اور لاجسٹکس کمپنیاں مشترکہ حکمت عملی کے تحت پاکستان کو کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں کے ذریعے ایک بڑے علاقائی ٹرانس شپمنٹ حب میں تبدیل کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں، جبکہ کراچی بندرگاہ پر بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کنٹینرز کی آمد میں پہلے ہی واضح اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جو اس پالیسی کے مثبت اثرات کی عکاسی کرتا ہے۔



