کسٹمز اپریزنگ آفیسر کو نااہلی پر سزا، دو سال کے انکریمنٹس روک دیے گئے، معطلی ختم

کراچی(کسٹم بلیٹن) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کسٹمز اپریزمنٹ (ایس اے پی ٹی) کراچی میں تعینات اپریزنگ آفیسر داود ڈینیئل (BS-16) کے خلاف محکمانہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد نااہلی، غفلت اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں کوتاہی ثابت ہونے پر معمولی سزا عائد کر دی ہے، جبکہ کرپشن، ملی بھگت یا بدنیتی کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔ایف بی آر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق افسر کے خلاف سول سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2020 کے تحت کارروائی کا آغاز کیا گیا تھا اور انہیں 10 نومبر 2025 کو معطل کر دیا گیا تھا۔ بعد ازاں انکوائری افسر کی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ مذکورہ افسر کی جانب سے ڈیوٹی کی انجام دہی میں مطلوبہ احتیاط، مستعدی اور پیشہ ورانہ معیار کا فقدان پایا گیا، تاہم کسی قسم کی بدعنوانی یا ذاتی فائدے کے شواہد نہیں ملے۔کیس کی تفصیلات کے مطابق متعلقہ جی ڈی کی ابتدائی جانچ پڑتال کے دوران افسر نے کم ڈیوٹی والے آئٹمز جیسے پلاسٹک ایکسیسریز، آہنی ڈیکوریشن اور گلاس ٹیبل ویئر ظاہر کیے، جبکہ بعد ازاں 100 فیصد ری اگزامینیشن میں اصل اشیاءچانڈلیئر پارٹس، وال لائٹس اور لیمپس نکلیں جن پر زیادہ ڈیوٹی عائد ہوتی ہے۔ اس غلط تشخیص کے باعث تقریباً 70 لاکھ روپے سے زائد کے ٹیکس نقصان کا خدشہ پیدا ہوا، تاہم کسٹمز انفورسمنٹ کراچی کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں یہ رقم ریکور کر لی گئی۔دورانِ سماعت افسر نے مو¿قف اختیار کیا کہ بھاری ورک لوڈ کے باعث انہوں نے صرف 10 سے 15 فیصد کنسائنمنٹ کی جانچ کی اور دستیاب آن لائن ذرائع سے تصدیق کے بعد رپورٹ مرتب کی، جبکہ انہوں نے چار دنوں میں تقریباً 60 کنسائمنٹس چیک کرنے کا بھی حوالہ دیا۔ تاہم انہوں نے 100 فیصد جانچ میں سامنے آنے والے فرق سے انکار نہیں کیا۔ممبر ایڈمن/ایچ آر، ایف بی آر نے تمام ریکارڈ، انکوائری رپورٹ، شوکاز نوٹس کے جواب اور ذاتی سماعت کے بعد نرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سول سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2020 کے تحت دو سال کے لیے بغیر مجموعی اثر کے انکریمنٹس روکنے کی سزا سنا دی۔مزید برآں افسر کو فوری طور پر سرکاری ملازمت میں بحال کر دیا گیا ہے اور 10 نومبر 2025 سے اب تک کی معطلی کی مدت کو قواعد کے مطابق رخصت تصور کیا جائے گا۔ ایف بی آر نے پرفارمنس الاو¿نس بھی چھ ماہ کے لیے بند کر دیا ہے جس کے بعد افسر کو دوبارہ جائزہ کے لیے پیش ہونا ہوگا۔نوٹیفکیشن کے مطابق متعلقہ افسر کو اس فیصلے کے خلاف 30 دن کے اندر اپیل دائر کرنے کا حق بھی حاصل ہے۔



