سندھ ہائی کورٹ : درآمد کنندہ کے حق میں تاریخی فیصلہ،کنسائمنٹ کی عارضی کلیئرنس کے احکامات

کراچی(کسٹم بلیٹن) سندھ ہائی کورٹ نے کراچی میں ایک اہم اور شفاف عدالتی کارروائی کے بعد میسرز آر ایف ریجنٹ فیبرکس (پرائیویٹ) لمیٹڈ کی درخواست منظور کرتے ہوئے کسٹمز حکام کے خلاف اہم فیصلہ سنایااورکنسائمنٹ کی عارضی کلیئرنس کے احکامات جاری کردیئے، ایکسپرٹ لاءایسوسی ایٹ کے وکیل ایڈووکیٹ انیل ضیاءنے ایم ایس آر ایف ریجنٹس فیبرکس پرائیویٹ لمیٹڈ کی جانب سے وکالت کی اور پولیسٹر ویسکوز گرے کپڑے (ان بلیچڈ) کی ایک کنسائمنٹ کی درآمد کے معاملے میں آئینی درخواست دائر سندھ ہائی کورٹ میں دائر کی کیونکہ کسٹمز حکام نے اپنی لیبارٹری رپورٹ کی بنیاد پر درآمد شدہ کپڑے کو بلیچڈ پولیسٹر فیبرک قرار دیا اور پی سی ٹی کوڈ5512.1110 کے تحت 15 فیصد ڈیوٹی کا مطالبہ کیا جبکہ کمپنی نے موقف اختیار کیا کہ یہ ان بلیچڈ پولیسٹر فیبرک ہے مذکوہ پی سی ٹی کوڈکے تحت صرف 10 فیصد ڈیوٹی عائد ہوتی ہے، عدالت نے فیصلہ دیا کہ کسٹمز حکام کنسائنمنٹ سے سیمپل لے کر کمپنی کی مرضی کے مطابق ایک معتبر اور آزاد لیبارٹری میں دوبارہ ٹیسٹ کروائیں، جس کا خرچہ کمپنی برداشت کرے گی، اور ٹیسٹ رپورٹ آنے کے بعد کسٹمز حکام قانون کے مطابق کارروائی کریں گے، عدالت نے مزید ہدایت کی کہ کمپنی چاہے تو متنازع ڈیوٹی اور ٹیکسز کی رقم کا بینک گارنٹی یا پے آرڈر جمع کرا سکتی ہے جو حتمی نتیجے تک انکیش نہیں ہوگا، جسٹس یوسف علی سعید اور جسٹس محمد عثمان علی ہادی پر مشتمل آئینی بنچ نے 10 فروری 2026 کو سماعت کے بعد یہ فیصلہ سنایا، عدالتی حکم درآمد کنندگان اور کسٹمز حکام کے درمیان پی سی ٹی کوڈ اور ڈیوٹی ریٹ کے فرق کے حوالے سے نہایت اہم مثال ہے، جو ٹیکسٹائل انڈسٹری میں معمول کے تنازعات ہیں، عدالت نے کسٹمز حکام کے دوبارہ ٹیسٹنگ پر کوئی ٹھوس اعتراض نہ کرنے کو مدنظر رکھتے ہوئے کمپنی کے موقف کو وزن دیا اور واضح کیا کہ عدالتی رہنمائی کے مطابق تمام کارروائیاں شفاف اور قانونی دائرہ اختیار میں ہوں، ماہرین اور تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف قانونی شفافیت کو فروغ دیتا ہے بلکہ درآمد کنندگان کے حقوق کے تحفظ، تجارتی پیچیدگیوں کے موثر حل اور مستقبل میں کاروباری اعتماد کو مضبوط کرنے کے لیے بھی ایک رہنما مثال ہے، عدالتی حکم سے واضح ہوا کہ کسٹمز حکام اور درآمد کنندگان دونوں کو قانونی اصولوں کے مطابق شفاف اور جوابدہ کارروائی کرنی ہوگی تاکہ کسی بھی غیر ضروری تعطل یا مالی نقصان سے بچا جا سکے۔


