محکمہ کسٹمزکاشپنگ کمپنیوں کے خلاف غیرقانونی ڈیٹنشن اور اضافی وصولیوں پر کریک ڈائون، سات روز میں رقوم واپسی کا حکم

کراچی(کسٹم بلیٹن) کسٹمز کلکٹریٹ ہیڈکوارٹرز (ایکسپورٹ و آئی او سی او) نے شپنگ ایجنٹس اور فریٹ فارورڈرز کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے ہدایت جاری کی ہے کہ کنٹینر ڈیٹنشن، اضافی چارجز اور سیکیورٹی ڈپازٹس کی مد میں غیرقانونی طور پر وصول کی گئی تمام رقوم سات روز کے اندر متعلقہ تاجروں کو واپس کی جائیں، بصورت دیگر متعلقہ اداروں کے آپریٹنگ لائسنس معطل یا منسوخ کر دیے جائیں گے۔یہ فیصلہ 11فروری2026کو کسٹم ہاو¿س کراچی میں منعقدہ اعلیٰ سطحی شپنگ کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت کلکٹرایکسپورٹ عرفان جاوید، کلکٹر کسٹمزاور سربراہ شپنگ کمیٹی نے کی اس موقع پر سلمان افضل، کلکٹر کسٹمز ہیڈکوارٹرز (ایکسپورٹس و آئی او سی او) بھی شریک تھے۔اجلاس تاجروں کی بڑھتی ہوئی شکایات کے تناظر میں طلب کیا گیا تھا۔ تاجروں کا موقف تھا کہ بعض شپنگ لائنز، شپنگ ایجنٹس اور فریٹ فارورڈرز کنٹینر ڈیٹنشن اور دیگر ضمنی اخراجات بغیر کسی معاہداتی بنیاد، شائع شدہ ٹیرف یا قانونی اجازت کے وصول کر رہے ہیں۔ مزید یہ کہ بعض کیسز میں کنٹینر سیکیورٹی ڈپازٹس، جو بعض اوقات ایک کروڑ روپے سے زائد بنتے ہیں، قانونی مدت گزرنے کے باوجود واپس نہیں کیے جا رہے۔شپنگ کمیٹی نے تاجروں کی جانب سے پیش کردہ دستاویزات اور متعلقہ قانونی دفعات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد شکایات کو درست قرار دیا۔ کمیٹی کے مطابق کسٹمز رولز 2001(ایس آر او450کی خلاف ورزی سامنے آئی ہے۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ رول665(پی)(کیو)(آر) تحت بغیر قانونی اختیار کے ڈیٹنشن اور اضافی چارجز کی وصولی قانونی خلاف ورزی ہے، جبکہ سیکیورٹی ڈپازٹس کو مقررہ مدت سے زائد روکنا بھی غیرقانونی عمل ہے۔چیئرمین شپنگ کمیٹی نے ہدایت جاری کی کہ تمام زیر التوا کلیم سات روز میں نمٹائے جائیں اور غیرقانونی وصول شدہ رقوم فوری واپس کی جائیں۔ عدم تعمیل کی صورت میں شوکاز نوٹسز جاری کیے جائیں گے اور متعلقہ لائسنس معطل یا منسوخ کیے جا سکتے ہیں۔اجلاس میں شریک شپنگ ایجنٹس اور فریٹ فارورڈرز نے کمیٹی کی ہدایات پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی۔ اس موقع پر تاجر نمائندوں نے ایس آر او450 میں ترامیم کا مطالبہ بھی کیا تاکہ غیر مجاز وصولیوں کا مستقل سدباب کیا جا سکے اور ملکی ضابطہ جاتی نظام کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔ کمیٹی نے اس ضمن میں تجاویز تحریری طور پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو بھجوانے کی ہدایت کی اور واضح کیا کہ آئندہ کسی بھی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔




