مرضی کی تعیناتی کے لئے سفارش اوردباﺅ کے استعمال کرنے پر ایف بی آرافسران کی معطلی اوربرطرفی کا انتباہ

کراچی(کسٹم بلیٹن) فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے افسران و ملازمین کی جانب سے مرضی کی جگہ تعیناتی کے حصول کے لیے سفارش، دباﺅ یا کسی بھی قسم کے بیرونی اثر و رسوخ کے استعمال کو سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ایک بار پھر واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ ایسی کسی بھی کوشش پر متعلقہ افسر یا ملازم کو بلا تاخیر معطل کر دیا جائے گا اور اس کے خلاف سول سرونٹس رولز 2020 کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی جس کا نتیجہ نوکری سے ہٹاجاسکتاہے۔دستاویزات کے مطابق20اگست2024کے سرکلرکے اجراءکے بعد گریڈ18اورگریڈ19کے دوافسران کو خلاف ورزی پر معطل بھی کیاجاچکاہے تاہم متعدد افسران کی دیگر وزارتوں اور محکموں میں ڈیپوٹیشن پر تعیناتی کے باعث ممکن ہے کہ وہ سرکلر سے آگاہ نہ ہو سکے ہوں، اسی لیے ہدایات کو ازسرِنو جاری کیا جا رہا ہے۔ مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ ایف بی آر میںمرضی کی جگہ پر تعیناتی کے لیے سفارش اور اثر و رسوخ کے استعمال کی ایک منفی ذیلی ثقافت جنم لے چکی ہے جو ادارے کی دیانت اور ساکھ کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے جبکہ درمیانی درجے کے افسران کا اس رجحان میں ملوث ہونا جونیئر افسران کے لیے خراب مثال قائم کرتا ہے۔ ایف بی آر نے یاد دہانی کرائی کہ سفارش یا کسی بھی ذریعے سے پوسٹنگ حاصل کرنا گورنمنٹ سرونٹس کنڈکٹ رولز کی خلاف ورزی ہے جس کی سزا برطرفی تک ہو سکتی ہے۔ ایف بی آر نے واضح کیا کہ آئندہ اگر کوئی افسر یا ملازم ٹرانسفر یا پوسٹنگ کے لیے کسی سفارش، بیرونی دباو¿ یا غیر مجاز ذریعے کا استعمال کرے گا تو اسے فوری طور پر معطل کیا جائے گا اور محکمانہ کارروائی شروع کر دی جائے گی۔



