Breaking NewsEham KhabarExclusive Reports

کسٹمز کے پوسٹ کلیئرنس آڈٹ کا بڑا انکشاف ، سگریٹ فلٹر کی کلیئرنس پرہونے والی 34 کروڑ سے زائد ٹیکس چوری کا اسکینڈل بے نقاب

کراچی(کسٹم بلیٹن) ڈائریکٹوریٹ آف پوسٹ کلیئرنس آڈٹ اینڈ انٹرنل آڈٹ نے سگریٹ فلٹر راڈز کی درآمدات میں بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری کا انکشاف کرتے ہوئے 34 کروڑ 6 لاکھ 39 ہزار روپے کے شاہانہ فراڈ کا سراغ لگا لیا ہے اور اس سلسلے میں میسرز ایسٹرن انڈسٹریز پرائیویٹ لمیٹڈ کے ڈائریکٹرز اور ایک کلیئرنگ ایجنٹ کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ یہ کارروائی ڈائریکٹر پی سی اے اینڈ آئی اے افضال وٹو اورایڈیشنل ڈائریکٹر توصیف گورچانی نے ڈائریکٹر جنرل یعقوب ماکو کی ہدایات پر مشترکہ آڈٹ کے ذریعے کی۔ ایف آئی آر میں نامزد ملزمان میں محمد اشرف حسن، ڈائریکٹر ایسٹرن انڈسٹریز، محمد شفیق سما، کلیئرنگ ایجنٹ محمد زین العابدین میسرزڈائمن ڈیسٹینیشن اینڈلاجسٹک اور دیگر نامعلوم معاونین شامل ہیں۔ کمپنی پر الزام ہے کہ اس نے جون2024 میں کراچی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون سے درآمد کیے گئے سگریٹ فلٹر راڈز کے کنسائمنٹ کی پی سی ٹی میں جان بوجھ کر رد و بدل کرتے ہوئے اصل پاکستان کسٹمز ٹیرف کوڈ5601,2200جس پر 80 ہزار روپے فی کلوگرام فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد ہوتی ہے اس کے بجائے غلط کوڈ5601.2900 ظاہر کیا، جس پر کوئی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لاگو نہیں ہوتی۔ اس غلط بیانی کے ذریعے قومی خزانے کو 34 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان پہنچایا گیا۔ آڈٹ نوٹس وصول ہونے کے بعد کمپنی نے مبینہ طور پر انہی سامان کو دوبارہ برآمد کرنے کی کوشش بھی کی تاکہ ثبوت کو ملک سے باہر منتقل کیا جاسکے، تاہم کسٹمز حکام نے بر وقت کارروائی کرتے ہوئے کنسائمنٹ کو روک کر دوبارہ معائنہ کیا جس میں سگریٹ فلٹر راڈز کی موجودگی کی تصدیق ہوئی اور وزن میں 60 کلوگرام کا فرق بھی سامنے آیا۔ ڈائریکٹوریٹ نے مکمل تحقیقات کے بعد ملزمان کے خلاف کسٹمز ایکٹ 1969 کی متعلقہ دفعات کے تحت غلط بیانی، حقائق چھپانے اور ڈیوٹیز و ٹیکسز کی چوری کے الزامات میں ایف آئی آر درج کر دی جبکہ مقدمے میں فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005، سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 اور انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی خلاف ورزیاں بھی شامل کی گئی ہیں۔ شکایت گزار اپریزننگ آفیسر عثمان غنی نے مو¿قف اختیار کیا کہ ملزمان نے جان بوجھ کر اور بدنیتی سے ٹیکس چوری کے لئے غلط درجہ بندی کی۔ کیس عدالت میں بھجوا دیا گیا ہے اور مزید تحقیقات کے ذریعے دیگر ملوث افراد کی نشاندہی بھی جاری ہے۔ یہ کارروائی اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستانی کسٹمز ریونیو کے تحفظ اور تجارتی دھوکے کی روک تھام کے لئے پوسٹ کلیئرنس آڈٹ کو مو¿ثر ہتھیار کے طور پر بروئے کار لا رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button