غیر ضروری فزیکل ایگزامنیشن کا سلسلہ ختم کرنے کا مطالبہ

کراچی (کسٹم بلیٹن) کسٹم ہاﺅس کراچی میں مشترکہ ٹریڈ فیسی لیٹیشن کمیٹی کا پہلا اجلاس چیف کلکٹر اپریزمنٹ ساﺅتھ واجد علی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں فیڈریشن کے نائب صدر آصف سکی اور سابق نائب صدر محمد ارشد جمال نے تاجروں کی جانب سے اہم ایجنڈا پوئنٹس پیش کرتے ہوئے غیر ضروری فزیکل ایگزامینیشن کے خاتمے، تاجر پروفائلنگ کی بنیاد پر سہولتوں میں اضافے، ہر ممکن جگہ پر کنٹینر اسکیننگ کو لازمی قرار دینے، بڑھتے ہوئے کام کے بوجھ کے تناسب سے ایگزامینرز اور اسیسزرز کی تعداد میں فوری اضافہ اور ایگزامینیشن کے عمل کو تیز کرنے کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس کی تشکیل کا مطالبہ کیا۔ سروسز سیکٹر کی نمائندگی کرتے ہوئے آل پاکستان کسٹمزایجنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین ارشد خورشید،کراچی کسٹمزایجنٹس ایسوسی ایشن کے صدر یحییٰ محمد اور جنرل سیکریٹری شیخ وقاص انجم نے کراچی انٹرنیشنل کنٹینرزٹرمینل اورساﺅتھ ایشیاءپاکستان ٹرمینل کی ناکافی استعداد، جگہ کی کمی، تربیت یافتہ لیبر، مشینری اور تکنیکی سہولتوں کے فقدان پر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ ٹرمینلز اپنی موجودہ صلاحیت سے کئی گنا زیادہ دباﺅ پر چل رہے ہیں جس کے باعث سامان کی گراﺅنڈنگ اور ایگزامینیشن میں شدید تاخیر ہو رہی ہے اور نتیجتاً تاجروں کو ماہانہ 750 ملین ڈالر تک کے اضافی اخراجات برداشت کرنے پڑ رہے ہیں۔ اجلاس میں کراچی چیمبرآف کامرس،آل پاکستان کسٹمزایجنٹس ایسوسی ایشن ،کراچی کسٹمزایجنٹس ایسوسی ایشن اور ٹرمینل انتظامیہ سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز نے تفصیل سے اپنے نکات پیش کیے جس کے بعد چیف کلکٹر واجد علی نے کہا کہ حکومت پاکستان تجارت اور صنعت کے فروغ کے لیے سنجیدگی سے کوشاں ہے اورجے ٹی ایف سی کے قیام کا بنیادی مقصد ہی کاروبار میں آسانی، دویل ٹائم میں کمی اور کاروباری لاگت کو کم کرنا ہے، انہوں نے فیڈریشن کو اگلے اجلاس میں جامع پالیسی فریم ورک اورایس اوپیز پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ کسٹمز کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں اور ادارہ جائز تجارت کے فروغ اور تاجروں کے مسائل کے حل کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔




