سوست ڈرائی پورٹ ،گلگت بلتستان سے درآمدی اشیاءکی کلیئرنس کا طریقہ کارجاری

کراچی (کسٹم بلیٹن )فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے سوست ڈرائی پورٹ، گلگت بلتستان سے درآمد ہونے والی اشیا کی کلیئرنس کے لیے خصوصی قواعد کا مسودہ جاری کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں ایف بی آرکی جانب سے ایس آراو2488جاری کردیاگیاہے ، جس کا مقصد گلگت بلتستان کے مقامی تاجروں کو سہولت فراہم کرنا اور سرحدی تجارت کو منظم بنانا ہے۔ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ مسودہ قواعد کے مطابق یہ اقدام کسٹمز ایکٹ 1969، سیلز ٹیکس ایکٹ 1990، فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 اور انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے کیا گیا ہے۔ مسودے پر اعتراضات اور تجاویز کے لیے عوام کو سرکاری گزٹ میں اشاعت کے بعد تین دن کی مہلت دی گئی ہے، جس کے بعد انہیں حتمی شکل دی جائے گی۔ایس آراوکے تحت وہ اشیا جو سلک روٹ ڈرائی پورٹ سوست کے ذریعے درآمد ہوں گی اور مخصوص پاکستان کسٹمز ٹیرف (پی سی ٹی) کوڈز کے تحت آتی ہوں گی، ان پر سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد نہیں کی جائے گی، بشرطیکہ درآمد کنندہ فرم یا کمپنی مکمل طور پر ایسے افراد کی ملکیت ہو جن کا ڈومیسائل گلگت بلتستان کا ہو، ہر کنسائنمنٹ کے لیے ویبوک سسٹم کے ذریعے آن لائن اجازت نامہ حاصل کیا گیا ہو اور مالی سال کے دوران ٹیکس و ڈیوٹی میں دی جانے والی مجموعی رعایت کی حد چار ارب روپے سے تجاوز نہ کرے۔نوٹیفکیشن کے مطابق ٹیکس میں چھوٹ کا فائدہ فرسٹ کم فرسٹ سروس کی بنیاد پر دیا جائے گا، جبکہ مقررہ کوٹے سے زائد درآمدات پر تمام قابل اطلاق ٹیکسز اور ڈیوٹیز وصول کی جائیں گی۔ حکومت گلگت بلستان اس امر کی پابند ہوگی کہ رعایتی کلیئرنس کے تحت درآمد کی گئی تمام اشیا صرف گلگت بلتستان کی حدود میں ہی استعمال کی جائیں۔ایس آراو میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر احتجاج، ہڑتال یا سڑکوں کی بندش کے باعث کسٹمز آپریشن متاثر ہوا تو کلکٹر آف کسٹمز گلگت بلتستان حکومت گلگت بلتستان سے مشاورت کے بعد ٹیکس میں دی گئی رعایت عارضی طور پر معطل کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کسی بھی ایسے کیس میں جہاں غلط بیانی، مس ڈکلیئریشن یا قوانین کی خلاف ورزی سامنے آئے، کسٹمز حکام کو رعایت واپس لینے اور قانونی کارروائی کا اختیار حاصل ہوگا۔چیف کلکٹر کسٹمز (انفورسمنٹ) کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ رعایتی کلیئرنس کے تحت درآمد کی گئی اشیا گلگت بلتستان سے باہر منتقل نہ ہوں، جبکہ کسٹمز حکام سوست کے ذریعے ملک کے دیگر حصوں کے لیے آنے والی درآمدات اور گلگت بلتستان کے لیے مخصوص اشیا کے درمیان فرق اور مو¿ثر نگرانی کا نظام قائم کریں گے۔ایف بی آر کے مطابق سوست ڈرائی پورٹ کے ذریعے درآمد ہونے والی تمام اشیا پردرآمدی وبرآمدی (کنٹرول) ایکٹ 1950، امپورٹ پالیسی آرڈر اور کسٹمز ایکٹ 1969 کی متعلقہ دفعات کا اطلاق بدستور برقرار رہے گا، چاہے یہ اشیا گلگت بلتستان کے لیے ہوں یا ملک کے دیگر حصوں کے لیے۔



