پاکستان سے ایران تک ٹرانزٹ ٹریڈ کیلئے بڑا اقدام، نئی راہداری پالیسی نافذ

اسلام آباد(کسٹم بلیٹن) حکومت پاکستان نے خطے میں تجارتی روابط کے فروغ اور بین الاقوامی ٹرانزٹ تجارت کو منظم بنانے کیلئے اہم پیش رفت کرتے ہوئے ٹرانزٹ آف گڈز تھرو ٹیریٹری آف پاکستان آرڈر 2026 جاری کر دیا ہے، وزارت تجارت کی جانب سے جاری اس حکم نامے کا اطلاق فوری طور پر ہوگا جس کے تحت تیسرے ممالک سے ایران جانے والی اشیاءکو پاکستان کے راستے منتقل کرنے کیلئے باقاعدہ قانونی اور انتظامی فریم ورک متعارف کرا دیا گیا ہے، یہ اقدام پاکستان اور ایران کے درمیان 29 جون 2008 کو طے پانے والے معاہدے کی روشنی میں کیا گیا ہے جبکہ اس کیلئے امپورٹس اینڈ ایکسپورٹس (کنٹرول) ایکٹ 1950 کے تحت حاصل اختیارات استعمال کیے گئے ہیں، آرڈر میں ٹرانزٹ تجارت سے متعلق اہم اصطلاحات کی وضاحت بھی شامل ہے جن میں کراس اسٹفنگ یعنی ایک کنٹینر سے دوسرے کنٹینر یا ٹرانسپورٹ میں سامان کی منتقلی، کسٹمز سکیورٹی جو کہ درآمدی ڈیوٹیز کے برابر قابل وصول مالی ضمانت ہوگی، شپّر یعنی سامان بھیجنے والا فرد یا ادارہ، جبکہ ٹرانزٹ سے مراد ایسی تجارت ہے جس میں سامان کی نقل و حرکت پاکستان کے راستے ہو مگر اس کی ابتدا اور اختتام پاکستان سے باہر ہو، اس پالیسی کے تحت حکومت نے متعدد اہم ٹرانزٹ کوریڈورز کی نشاندہی بھی کی ہے جن میں گوادر تا گبد، کراچی/پورٹ قاسم تا لیاری، اورماڑہ، پسنی اور گبد، کراچی/پورٹ قاسم تا خضدار، دالبندین اور تفتان، گوادر تا تربت، ہوشاب، پنجگور، خضدار، کوئٹہ اور تفتان سمیت دیگر اہم روٹس شامل ہیں، اسی طرح کراچی/پورٹ قاسم سے گوادر کے راستے گبد تک بھی راہداری فراہم کی گئی ہے، حکم نامے کے مطابق تمام ٹرانزٹ کارگو کی نقل و حمل کسٹمز ایکٹ 1969، اس کے تحت بنائے گئے قواعد اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے مقرر کردہ طریقہ کار کے مطابق ہوگی، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام پاکستان کو خطے میں ایک اہم تجارتی راہداری بنانے، ایران کے ساتھ زمینی تجارت بڑھانے اور گوادر و کراچی بندرگاہوں کی معاشی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ کرنے میں مددگار ثابت ہوگا جبکہ اس سے علاقائی تجارت کو بھی نئی جہت ملنے کی توقع ہے



