سو ارب روپے سے زائدکا سولر پینلز اسکینڈل، ملوث افراد کے خلاف فوری قانونی کارروائی کا حکم

اسلام آباد(کسٹم بلیٹن)وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے سولر پینلز کی اوورانوائسنگ اور منی لانڈرنگ کے 120 ارب روپے کے بڑے اسکینڈل میں ملوث تمام افراد کے خلاف فوری اور جامع قانونی کارروائی کا حکم دے دیا ہے، جبکہ مالی بدعنوانی اور ادارہ جاتی غفلت پر زیرو ٹالرنس پالیسی کا اعادہ کیا گیا ہے۔وزیراعظم نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے امور پر اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ یہ غیر قانونی اسکیم 2017 سے 2022 تک مسلسل جاری رہی، جو مختلف اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ملوث یا غفلت کے مرتکب تمام افسران کی فوری نشاندہی کر کے ان کے خلاف بلاامتیاز قانونی اور محکمانہ کارروائی کی جائے۔وزیراعظم ہاو¿س کی جانب سے 22 اپریل 2026 کو جاری نوٹیفکیشن کے تحت دو اعلیٰ سطحی کمیٹیاں قائم کر دی گئی ہیں۔ ایک کمیٹی ڈسپلنری کارروائی کی نگرانی کرے گی اور متعلقہ افسران کی ذمہ داری کا تعین کرے گی، جبکہ دوسری کمیٹی تحقیقات اور پراسیکیوشن کے عمل کو تیز اور موثر بنانے کی ذمہ دار ہوگی۔ دونوں کمیٹیاں اپنی پیش رفت سے متعلق باقاعدگی سے وزیراعظم کو رپورٹ پیش کریں گی۔وزیراعظم نے کراچی اور اسلام آباد میں خصوصی پراسیکیوٹرز کی تعیناتی کی بھی ہدایت کی ہے تاکہ کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے اور ملوث عناصر کو قرار واقعی سزا دی جا سکے۔تحقیقات کے مطابق ڈائریکٹوریٹ آف پوسٹ کلیئرنس آڈٹ نے اس بڑے اسکینڈل کا سراغ لگایا، جس میں جعلی کمپنیوں اور فرضی امپورٹرز کا ایک منظم نیٹ ورک سامنے آیا۔ سولر پینلز کی درآمدی قیمتوں میں مصنوعی اضافہ کر کے اربوں روپے بیرون ملک منتقل کیے گئے، جسے ٹریڈ بیسڈ منی لانڈرنگ کی ایک بڑی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔بعد ازاں کسٹمز ایڈجوڈیکیشن اتھارٹی نے تاریخی فیصلے میں الزامات ثابت ہونے پر 111 ارب روپے سے زائد جرمانے عائد کیے اور متعلقہ کمپنیوں کو کاغذی اور جعلی قرار دیا۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ یہ کمپنیاں جعلی دستاویزات کے ذریعے درآمدات ظاہر کر کے مقامی مارکیٹ میں کم قیمت پر فروخت کرتی رہیں، جبکہ فرق کی رقم غیر قانونی ذرائع سے بیرون ملک منتقل کی جاتی رہی۔اس اسکینڈل میں بینکاری نظام اور ریگولیٹری خامیوں کے استعمال کا بھی انکشاف ہوا ہے، جس کے باعث یہ غیر قانونی سرگرمیاں کئی سال تک جاری رہیں۔ حکومت کی جانب سے جاری تحقیقات میں مختلف سرکاری اداروں، مالیاتی اداروں اور ریگولیٹری باڈیز کے کردار کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق کیس کے اگلے مرحلے میں بھاری جرمانوں کی وصولی، غیر قانونی اثاثوں کی ضبطی اور منی لانڈرنگ کے خلاف مو¿ثر اصلاحات پر توجہ دی جائے گی، جبکہ ذمہ دار افسران اور اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی متوقع ہے۔وزیراعظم کی جانب سے براہ راست مداخلت اس کیس کو پاکستان میں مالیاتی جرائم کے خلاف ایک اہم ٹیسٹ کیس بنا سکتی ہے، جس سے نہ صرف احتساب کا عمل مضبوط ہوگا بلکہ آئندہ ایسے اسکینڈلز کی روک تھام کے لیے بھی مو¿ثر نظام تشکیل پانے کی توقع ہے۔



