محکمہ کسٹمز،گاڑیوں کی نیلامی میں بے ضابطگیوں کاانکشاف

کراچی(کسٹم بلیٹن)محکمہ کسٹمز نے وفاقی ٹیکس محتسب کے فیصلے کونظراندازکرتے ہوئے گاڑی کوچندلاکھ روپے میں غیرقانونی طورپرنیلام کردیا۔تفصیلات کے مطابق وفاقی ٹیکس محتسب نے کسٹمز حکام کی جانب سے کسٹمز اپیلیٹ ٹربیونل کے واضح حکم کے باوجود گاڑی نیلام کیے جانے کے معاملے میں محکمانہ بدانتظامی کا اہم انکشاف کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ٹربیونل کے حکم سے گاڑی غیر مشروط طور پر ریلیز ہونے کے باوجود نیلام کردی گئی جبکہ گاڑی کے مالک کو نیلامی کا نوٹس جاری نہ کرنا اور محکمہ کی جانب سے اپیل کے بارے میں لاعلمی کا موقف اختیار کرنا بدانتظامی کے زمرے میں آتا ہے۔وفاقی ٹیکس محتسب نے کیس نمبر 06773میں نظرثانی درخواست خارج کرتے ہوئے اپنے سابقہ فیصلے اور اس میں درج محکمانہ بدانتظامی کے نتائج کو برقرار رکھا ہے۔ تاہم محتسب نے واضح کیا ہے کہ اصل فیصلے میں صرف نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم کی واپسی اور حقائق جاننے کے لیے انکوائری کی ہدایت کی گئی تھی، اس لیے بعد ازاں عملدرآمد کے مرحلے میں گاڑی کی مکمل مالیت یا اضافی معاوضے کا مطالبہ منظور نہیں کیا جا سکتا۔فیصلے کے مطابق معاملہ اس وقت سنگین رخ اختیار کر گیا جب کسٹمز اپیلیٹ ٹربیونل نے 30 جنوری 2020 کو کسٹمز اپیل کی جانب سے گاڑی کو غیر مشروط طور پر ریلیز کرنے کا حکم دیا، مگر اس کے باوجود گاڑی 17 مارچ 2020 نیلام کردی گئی جبکہ گاڑی کونیلام کرنے کے لئے گاڑی کے مالک کو نیلامی کانوٹس بھی جاری نہیں کیا گیا۔وفاقی ٹیکس محتسب کے مطابق ابتدائی کارروائی کے دوران محکمہ کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا گیا کہ اسے ٹربیونل میں جاری کارروائی کا علم نہیں تھا، تاہم دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر یہ موقف درست ثابت نہیں ہوا۔ محتسب نے قرار دیا کہ مذکورہ طرز عمل وفاقی ٹیکس محتسب آرڈینینس 2000 کے تحت محکمانہ بدانتظامی کے زمرے میں آتا ہے۔فیصلے میں بتایا گیا کہ شکایت کنندہ کی گاڑی کسٹمز حکام کے قبضے میں تھی اور اس کے متعلق قانونی کارروائی جاری تھی۔ معاملہ کسٹمز اپیلیٹ ٹربیونل تک پہنچا جہاں 30 جنوری 2020 کو گاڑی کی غیر مشروط ریلیزکرنے کا حکم جاری کیا گیا۔اس کے باوجود ریکارڈ کے مطابق گاڑی کو 17 مارچ 2020 کو نیلام کیاگیا۔وفاقی ٹیکس محتسب نے اس معاملے کو محض ایک معمولی انتظامی خامی قرار دینے کے بجائے اصل فیصلے میں محکمانہ بدانتظامی قرار دیا تھا۔ بعد ازاں اسی فیصلے پر عملدرآمد کے لیے حقائق معلوم کرنے والی کمیٹی قائم کی گئی۔وفاقی ٹیکس محتسب کے فیصلہ میں تبایاگیاہے کہگاڑی 8 بار نیلامی کے لیے پیش، بالآخر صرف 11 لاکھ 10 ہزار روپے میں نیلام کردی گئی۔فیصلے میں گاڑی کی نیلامی سے متعلق ایک انتہائی اہم تفصیل بھی سامنے آئی ہے۔ محکمہ کے مطابق گاڑی کی مقررہ ریزرو قیمت 34 لاکھ 65 ہزار 953 روپے تھی، تاہم اس قیمت پر متعدد مرتبہ بولی نہ آسکی۔ریکارڈ کے مطابق گاڑی کو مجموعی طور پرآٹھ مرتبہ نیلامی کے لیے پیش کیا گیا۔پہلی، دوسری ،تیسری اورچوتھی نیلامی میں کوئی بولی نہیںلگی جبکہ پانچویں نیلامی میں 5 لاکھ روپے، چھٹی نیلامی میں 9 لاکھ روپے، ساتویں نیلامی میں 11 لاکھ روپے، آٹھویں نیلامی میں 11 لاکھ 10 ہزار روپے ،بالآخر گاڑی 11 لاکھ 10 ہزار روپے میں فروخت ہوئی۔وفاقی ٹیکس محتسب کے سامنے کسٹمز حکام نے موقف اختیار کیا کہ متعدد مرتبہ نیلامی میں بولیوں کے عمل سے گاڑی کی حقیقی مارکیٹ ویلیو کا اندازہ ہوتا ہے اور بالآخر 11 لاکھ 10 ہزار روپے کی بولی پر گاڑی فروخت ہوئی،جبکہ محکمہ کسٹمز نے خود گاڑی کی مالیت 55 لاکھ روپے بتائی تھی۔دوسری جانب شکایت کنندہ نے نیلامی کی رقم وصول کرنے سے انکار کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ کسٹمز کے اپنی رپورٹ میں گاڑی کی مالیت 55 لاکھ روپے ظاہر کی گئی تھی۔فیصلے کے دوران کسٹمز انفورسمنٹ کراچی کے کلکٹر نے بتایا کہ اصل فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے محکمہ نے گاڑی کی نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم کی واپسی کے لیے 11 لاکھ 10 ہزار روپے مالیت کا چیک تیار کرلیا تھا، تاہم شکایت کنندہ نے یہ رقم وصول کرنے سے انکار کردیا۔شکایت کنندہ کا موقف تھا کہ جب گاڑی کی مالیت کسٹمز ریکارڈ میں 55 لاکھ روپے ظاہر کی گئی تھی تو اسے صرف 11 لاکھ 10 ہزار روپے واپس کیوں دیے جائیں۔


