Breaking NewsEham KhabarExclusive Reports

بھارتی ممنوعہ کیمیکل کی غیر قانونی درآمد، ایف آئی اے نے اربوں روپے کے میتھائل برومائیڈ اسکینڈل کی ایف آئی آر درج کر لی

کراچی(کسٹم بلیٹن) وفاقی تحقیقاتی ادارے آسٹریلیوی کمپنی کے نام پر متحدہ عرب امارات سے بھارتی ممنوعہ کیمیکل کی جعلسازی کے ذریعے درآمدکرنے کی نشاندہی کرتے ہوئے مقدمہ درج کرلیاگیاہے۔تفصیلات کے مطابق ایف آئی اے نے محکمہ تحفظ نباتات کے افسران، کیڑے مار ادویات سے متعلق کاروباری اداروں کے ذمہ داران اور دیگر افراد کے خلاف مبینہ جعلسازی، دھوکہ دہی، اختیارات کے ناجائز استعمال، قومی خزانے کو نقصان پہنچانے اور ممنوعہ ذریعہ سے اوزون کو نقصان پہنچانے والے کیمیائی مادے میتھائل برومائیڈ درآمد کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کرکے باقاعدہ تحقیقات شروع کردی ہیں، ایف آئی آر کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے کی جانے والی انکوائری مکمل ہونے کے بعد سامنے آنے والے شواہد کی بنیاد پر کارروائی عمل میں لائی گئی، تحقیقات میں مبینہ طور پر انکشاف ہوا کہ میسرز پیسٹ مینجمنٹ سروسز پرائیویٹ لمیٹڈ کراچی، میسرز کمبائن ٹریڈنگ کراچی اور میسرز اے آر کے سروسز کراچی نے محکمہ تحفظ نباتات کے بعض افسران اور اہلکاروں کے ساتھ مبینہ ملی بھگت کرکے 83ہزارمیٹرک ٹن میتھائل برومائیڈ کی درآمد کے لیے اجازت نامے حاصل کیے، ایف آئی آر کے مطابق ان اجازت ناموں کے حصول کے لیے ایسے جعلی اور من گھڑت دستاویزات پیش کیے گئے جن کے ذریعے کیمیائی مادے کے اصل ملک، تیار کنندہ اور فراہم کنندہ کی حقیقت چھپائی گئی اور اسے آسٹریلیا کی کمپنی میسرزان ٹیک آرگینکس آسٹریلیا کی تیار کردہ مصنوعات ظاہر کیا گیا، حالانکہ تحقیقات میں مبینہ طور پر معلوم ہوا کہ درآمدی مال بھارت سے منسلک تھا اور متحدہ عرب امارات کے راستے پاکستان پہنچایا گیا، ایف آئی آر کے مطابق میسرز پیسٹ مینجمنٹ سروسز کو ابتدا میں 31 مارچ 2016 کو میتھائل برومائیڈ کی درآمد کا اجازت نامہ جاری کیا گیا تھا اور اس وقت بھارت میں قائم کمپنی میسرزان ٹیک فارما پرائیویٹ لمیٹڈ کو تیار کنندہ اور فراہم کنندہ ظاہر کیا گیا تھا، بعد ازاں کمپنی کی جانب سے اجازت نامے کی تجدید کے دوران فراہم کنندہ کے نام میں تبدیلی کی درخواست کی گئی، تاہم پتہ وہی بھارتی کمپنی کا برقرار رہا، محکمہ تحفظ نباتات نے اجازت نامے کی تجدید کی، بعد ازاں 2021 میں بھارت سے میتھائل برومائیڈ کی درآمد کی اجازت کی درخواست مسترد کیے جانے کے بعد نئی درخواست جمع کرائی گئی جس میں آسٹریلیا کی ایک کمپنی کو اصل فراہم کنندہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی، ایف آئی آر کے مطابق بعد کی درخواستوں میں بھی دستاویزات اور کمپنیوں کے ناموں میں ایسی تبدیلیاں کی گئیں جن سے یہ تاثر پیدا کیا گیا کہ مصنوعات آسٹریلیا سے درآمد کی جارہی ہیں، جبکہ تکنیکی اور تیار شدہ مصنوعات کے حوالے سے بعض دستاویزات میں بھارتی کمپنی کا نام بدستور موجود رہا، تحقیقاتی ادارے کے مطابق مختلف درخواستوں کا تقابلی جائزہ لینے سے مبینہ طور پر یہ بات سامنے آئی کہ درخواستوں میں اصل ذریعہ بھارت سے آسٹریلیا منتقل کیا گیا جبکہ تیار شدہ مصنوعات کے حوالے سے بھارتی ادارے کا نام برقرار رہا اور تمام مراحل میں پیش کی جانے والی مطالعاتی دستاویزات بھی بھارتی کمپنی کی جانب سے تیار یا اسپانسر شدہ تھیں، ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ محکمہ تحفظ نباتات کی تشخیصی و رجسٹریشن کمیٹی کے بعض ارکان نے ان دستاویزات کی مناسب جانچ پڑتال کے بغیر انہیں منظور کرنے کی سفارش کی اور اس عمل میں مبینہ بدعنوانی اور بدنیتی کا مظاہرہ کیا گیا، بعد ازاں متعلقہ حکام نے درآمدی اجازت نامے جاری اور منظور کیے، ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ بعض سرکاری افسران نے زرعی ادویات سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لازمی دستاویزاتی جانچ نہیں کی، اجازت ناموں کے ساتھ منسلک دستاویزات میں موجود متضاد معلومات کو نظرانداز کیا گیا، وفاقی کیڑے مار ادویات کی جانچ اور حوالہ جاتی تجربہ گاہ سے نمونوں کی جانچ نہیں کرائی گئی اور بیرون ملک ظاہر کیے گئے تیار کنندہ کی موجودگی اور حقیقی حیثیت کی بھی مناسب تصدیق نہیں کی گئی، تحقیقاتی ادارے کے مطابق آسٹریلیا میں پاکستانی قونصل خانے اور متعلقہ آسٹریلوی حکام کے ذریعے کرائی گئی تصدیق کے دوران مبینہ طور پر معلوم ہوا کہ ”ان ٹیک آرگینکس آسٹریلیا“ نامی ادارہ ظاہر کیے گئے پتے پر موجود ہی نہیں تھا، جبکہ اجازت ناموں کے لیے پیش کی گئی اچھی تجربہ گاہی طریقہ کار سے متعلق دستاویز بھی مبینہ طور پر بھارتی ادارے کی جانب سے جاری کی گئی تھی، ایف آئی آر میں کسٹمز حکام سے حاصل ہونے والے ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ زیادہ تر درآمدی کھیپیں آسٹریلیا کے بجائے متحدہ عرب امارات کی جبل علی بندرگاہ سے روانہ ہوئی تھیں، تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق مذکورہ اجازت نامے کی بنیاد پر پیسٹ مینجمنٹ سروسز نے 31 مارچ 2022 سے 10 مئی 2025 کے دوران تقریباً 830.5 میٹرک ٹن میتھائل برومائیڈ 50 کھیپوں میں درآمد کیا، جس کی مجموعی ظاہر کردہ مالیت تقریباً 3 ارب 30 کروڑ 90 لاکھ روپے بنتی ہے، ان تمام کھیپوں میں آسٹریلیا کو ملکِ منشا ظاہر کیا گیا، تاہم بعد میں محکمہ تحفظ نباتات کی جانب سے درآمدی اجازت نامہ منسوخ کردیا گیا، ایف آئی آر کے مطابق درآمد شدہ سلنڈروں کی جسمانی جانچ کے دوران 32 سلنڈر ایسے برآمد ہوئے جن پر ”میڈان انڈیا“ درج تھا، جس سے مبینہ طور پر مال کے اصل ملک کے بارے میں غلط بیانی ثابت ہوئی، تحقیقاتی ادارے نے الزام عائد کیا ہے کہ اس صورتحال کے باوجود کسٹمز حکام نے ان سلنڈروں کو ضبط کرنے کے بجائے مبینہ طور پر دوبارہ برآمد کرنے کی اجازت دی اور باقی کھیپیں بھی متعلقہ کمپنی کے حق میں مبینہ ملی بھگت سے جاری کردی گئیں، ایف آئی اے نے قرار دیا ہے کہ اس معاملے میں متعلقہ کسٹمز افسران کا کردار بھی تحقیقات کے دوران متعین کیا جائے گا، مقدمے میں سابق ڈائریکٹر جنرل محکمہ تحفظ نباتات محمد طارق خان، ڈائریکٹر رجسٹریشن ڈاکٹر اللہ دتہ عابد، ڈپٹی ڈائریکٹر رجسٹریشن امتیاز حسین، ماہر حشرات سید مظمل حسین، سینئر کیمسٹ عمارہ، ڈپٹی ڈائریکٹر رجسٹریشن زعیمہ خان، ماہر حشرات ثویرا، حمزہ علی، محکمہ تحفظ نباتات کے سابق ڈائریکٹر سہیل شہزاد اور پیسٹ مینجمنٹ سروسز کے چیف ایگزیکٹو افسر سمیت دیگر متعلقہ افراد کو نامزد کیا گیا ہے، ایف آئی آر میں پیسٹ مینجمنٹ سروسز کے ڈائریکٹرز فرقان احمد، عزیر احمد اور سید علی حیدر، کمبائن ٹریڈنگ کے مالک شاہ محمد سعد ضیا اور اے آر کے سروسز کے مالک عامر رشید خان کے نام بھی شامل ہیں، وفاقی تحقیقاتی ادارے کے مطابق نامزد ملزمان نے مبینہ طور پر ایک فرضی غیر ملکی تیار کنندہ ظاہر کرکے جعلی دستاویزات کے ذریعے میتھائل برومائیڈ کے درآمدی اجازت نامے حاصل کیے، جعلی دستاویزات کو اصل کے طور پر استعمال کیا، ممنوعہ ذریعے سے اوزون کو نقصان پہنچانے والے کیمیائی مادے کی درآمد میں سہولت فراہم کی، سرکاری حیثیت رکھنے والے ملزمان نے مبینہ طور پر اختیارات کا غلط استعمال کیا، ذاتی یا کاروباری مفاد کے لیے ناجائز فائدہ حاصل کیا اور قومی خزانے کو نقصان پہنچایا، ایف آئی آر کے مطابق کسٹمز حکام، قبل از ترسیل معائنہ کرنے والی ایجنسی، کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹس، متعلقہ بینکوں کے افسران اور محکمہ تحفظ نباتات کے مزید افسران و اہلکاروں کا کردار بھی تحقیقات کے دوران سامنے لایا جائے گا، جن میں درآمدی کنسائمنٹس کی کارروائی، تصدیق، معائنہ، ادائیگی اور کلیئرنس میں ملوث افراد شامل ہیں، وفاقی تحقیقاتی ادارے نے مجاز اتھارٹی سے منظوری حاصل کرنے کے بعد مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button