کسٹمز اسٹیشن پر سامان کی کلیئرنس میں تاخیر، جرمانوں کا نیا نظام نافذ

کراچی (کسٹم بلیٹن )پورٹ پر کنسائمنٹس کی کلیئرنس پر تاخیر اورکسٹم قوانین کی خلاف ورزی پر نئے جرمانے مقررکردیئے گئے ہیں جس میں تاخیر پر یومیہ 5 ہزار سے 50 ہزار روپے تک جرمانہ ہوگا وفاقی حکومت نے کسٹمز اسٹیشن پر درآمدی و برآمدی سامان کی مقررہ مدت میں کلیئرنس اور ترسیل یقینی بنانے کے لیے جرمانوں کا نیا نظام نافذ کردیا، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعہ۸۲کی ذیلی دفعہ (1) کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے ایس آر او1346 جاری کردیا، جس کے تحت مختلف خلاف ورزیوں پر یومیہ بنیادوں پر جرمانے عائد کیے جائیں گے، نئے نوٹیفکیشن کے ذریعے 31 جولائی 2025 کو جاری کردہ ایس آر او 1387کو منسوخ کرتے ہوئے اس کی جگہ نئی جرمانہ پالیسی نافذ کی گئی ہے، نوٹیفکیشن کے مطابق اگر درآمد شدہ سامان کی آمد کے بعد 20 دن کے اندر ہوم کنزمپشن، ویئر ہاو¿سنگ یا ٹرانس شپمنٹ کے لیے گڈز ڈیکلریشن داخل نہ کی جائے تو پہلے پانچ دن کے لیے ہر دن 5 ہزار روپے اور اس کے بعد ہر دن 15 ہزار روپے جرمانہ عائد ہوگا تاہم مجموعی جرمانہ ایک کیس میں 10 لاکھ روپے سے زیادہ نہیں ہوگا، اسی طرح اگر جہاز کی برتھنگ سے قبل گڈز ڈیکلریشن داخل کردی جائے لیکن اسیسمنٹ مکمل ہونے اور جہاز کی برتھنگ کے بعد قابل ادائیگی ڈیوٹی و ٹیکسز ادا کرنے کے باوجود سامان پانچ دن کے اندر کسٹمز اسٹیشن سے نہ نکالا جائے تو اگلے پانچ دن کے لیے یومیہ 10 ہزار روپے جبکہ اس کے بعد ہر دن 20 ہزار روپے جرمانہ ہوگا اور اس خلاف ورزی میں بھی زیادہ سے زیادہ جرمانہ 10 لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے، نوٹیفکیشن کے مطابق اگر گڈز ڈیکلریشن جہاز کی برتھنگ کے بعد داخل کی جائے اور گڈز ڈیکلریشن کی کلیئرنس کے پانچ دن کے اندر کنسائمنٹس ہوم کمزنشن، ویئر ہاو¿سنگ یا ٹرانس شپمنٹ کے لیے کسٹمز اسٹیشن سے نہ نکالا جائے تو اگلے پانچ دن تک ہر دن 25 ہزار روپے اور اس کے بعد ہر دن 50 ہزار روپے جرمانہ عائد ہوگا تاہم مجموعی جرمانہ 10 لاکھ روپے سے تجاوز نہیں کرے گا، برآمدی سامان کے حوالے سے بھی جرمانے مقرر کیے گئے ہیں اور اگر سامان پورٹ میں انٹری کے 15 دن کے اندر برآمدی کنوینس پر لوڈ نہ کیا جائے تو اگلے پانچ دن کے لیے روزانہ 15 ہزار روپے اور اس کے بعد ہر دن 20 ہزار روپے جرمانہ ہوگا، اس صورت میں بھی زیادہ سے زیادہ جرمانہ 10 لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے، ایف بی آر کے مطابق مذکورہ جرمانے کسٹمز ایکٹ کے تحت متعلقہ قواعد میں مقرر کردہ طریقہ کار کے مطابق عائد ہوں گے اور ان پر ایڈجوڈیکیشن کی کارروائی یا رضاکارانہ طور پر جرمانہ جمع کرانے کا طریقہ کار اختیار کیا جائے گا، وفاقی حکومت کی جانب سے جرمانوں کی شرح میں یہ تبدیلی درآمدی و برآمدی سامان کی کلیئرنس میں غیرضروری تاخیر کی حوصلہ شکنی اور کسٹمز اسٹیشنز پر کارگو کی بروقت نقل و حرکت یقینی بنانے کے لیے کی گئی ہے۔

