Breaking NewsEham KhabarExclusive Reports

ڈی جی ٹی او نے کراچی کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن اور کراچی کسٹمز کلیئرنگ اینڈ فارورڈنگ ایسوسی ایشن کو ایسوسی ایشن کا نام استعمال کرنے سے فوری روک دیا

کراچی (کسٹم بلیٹن)  ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹریڈ آرگنائزیشنز (ڈی جی ٹی او) نے کراچی کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن اور کراچی کسٹمز کلیئرنگ اینڈ فارورڈنگ ایسوسی ایشن کو فوری طور پر ایسوسی ایشن کا لفظ استعمال کرنے، تجارتی نمائندگی کرنے اور سرکاری و نجی اداروں سے رابطوں سمیت تمام سرگرمیاں روکنے کا باضابطہ حکم جاری کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں 28 جولائی 2026 کو دونوں تنظیموں کو ڈی جی ٹی او کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ٹریڈ آرگنائزیشنز ایکٹ 2013 کے تحت صرف وہی تجارتی ادارے، چیمبرز، فیڈریشنز یا ایسوسی ایشنز کام کر سکتی ہیں جو ریگولیٹر آف ٹریڈ آرگنائزیشنز سے باقاعدہ لائسنس حاصل کریں۔کسی بھی تجارتی ادارے کو لائسنس کے بغیر کاروباری شعبے کی نمائندگی یا تجارتی سرگرمیاں انجام دینے کی اجازت نہیں۔نوٹس کے مطابق فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور آل پاکستان کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن کی جانب سے 22 جولائی 2026 کو شکایات موصول ہوئیں جن میں موقف اختیار کیا گیا کہ مذکورہ دونوں ادارے بغیر کسی قانونی ٹریڈ لائسنس کے کسٹمز ایجنٹس اور کلیئرنگ و فارورڈنگ سیکٹر کی نمائندگی کر رہے ہیں، ممبرشپ کارڈ جاری کر رہے ہیں اور پاکستان کسٹمز، بندرگاہوں، ٹرمینل آپریٹرز اور دیگر سرکاری و نجی اداروں سے باضابطہ رابطے بھی کر رہے ہیں۔ڈی جی ٹی او نے واضح کیا کہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق کراچی کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن اور کراچی کسٹمز کلیئرنگ اینڈ فارورڈنگ ایسوسی ایشن کے پاس ٹریڈ آرگنائزیشنز ایکٹ 2013 کے تحت کوئی قانونی لائسنس موجود نہیں، اس لیے ایسوسی ایشن کے نام سے کام کرنا، تجارتی شعبے کی نمائندگی کرنا اور خود کو نمائندہ تجارتی تنظیم ظاہر کرنا غیر قانونی، غیر مجاز اور قانون کے مطابق کالعدم ہے۔نوٹس میں مزید کہا گیا کہ ٹریڈ آرگنائزیشنز ایکٹ کی دفعہ ۵(۳) میں صرف ان غیر منافع بخش اداروں کو استثنیٰ حاصل ہے جو آرٹ، سائنس، مذہب، فلاحی کام یا کھیلوں کے فروغ کے لیے قائم کیے گئے ہوں، جبکہ تجارت، صنعت، خدمات، کسٹمز، کلیئرنگ، فارورڈنگ یا لاجسٹکس سے وابستہ ادارے اس استثنیٰ سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ڈی جی ٹی او نے اپنے حکم میں اسلام آباد ہائیکورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالتیں قرار دے چکی ہیں کہ ٹریڈ آرگنائزیشنز ایکٹ ایک خصوصی قانون ہے، جس پر عمل درآمد ہر تجارتی تنظیم کے لیے لازمی ہے اور ریگولیٹر کو غیر قانونی طور پر کام کرنے والی تنظیموں کے خلاف کارروائی کا مکمل اختیار حاصل ہے۔جاری کردہ ہدایات کے مطابق دونوں اداروں کو فوری طور پر اپنے نام سے ایسوسی ایشن کا لفظ ختم کرنے، لیٹر ہیڈ، ویب سائٹس، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور تمام سرکاری و غیر سرکاری مراسلت میں اس عنوان کا استعمال بند کرنے، پاکستان کسٹمز، پورٹ ٹرمینلز، سرکاری محکموں اور نجی اداروں کے ساتھ نمائندہ تجارتی تنظیم کے طور پر تمام رابطے روکنے اور ممبرشپ کارڈز یا نمائندگی سے متعلق تمام سرگرمیاں معطل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ڈی جی ٹی او نے دونوں اداروں کو ہدایت کی ہے کہ نوٹس جاری ہونے کے چودہ روز کے اندر ایک حلف نامہ جمع کرایا جائے جس میں اس بات کی تصدیق کی جائے کہ انہوں نے سرکاری ہدایات پر مکمل عمل کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کا استعمال اور تمام غیر مجاز نمائندہ سرگرمیاں بند کر دی ہیں۔نوٹس میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر مقررہ مدت میں احکامات پر عمل نہ کیا گیا تو ٹریڈ آرگنائزیشنز ایکٹ 2013 کی دفعہ 25 کے تحت جرمانے اور دیگر قانونی سزائیں دی جائیں گی جبکہ دفعہ 26 کے تحت تنظیم کے عہدیداران، ڈائریکٹرز اور ذمہ دار افراد کے خلاف ذاتی حیثیت میں بھی قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان ، پاکستان کسٹمز، کراچی پورٹ ٹرسٹ، پورٹ قاسم اتھارٹی، گوادر پورٹ اتھارٹی، بندرگاہی ٹرمینلز اور دیگر متعلقہ اداروں کو بھی ہدایات جاری کی جائیں گی کہ مذکورہ تنظیموں کو بطور تجارتی نمائندہ ادارہ تسلیم نہ کیا جائے اور ان کی رجسٹرڈ سہولیات یا اسناد ختم کر دی جائیں۔یہ ہدایت نامہ ریگولیٹر آف ٹریڈ آرگنائزیشنز کی منظوری سے جاری کیا گیا ہے اور اس کی نقول وزارت تجارت، ایف بی آر، ایس ای سی پی، ممبر کسٹمز (آپریشنز)، ایف پی سی سی آئی، کراچی کسٹمز، بندرگاہی ٹرمینلز اور آل پاکستان کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن سمیت متعلقہ اداروں کو بھی ارسال کر دی گئی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button