Breaking NewsEham Khabar

فیس لیس میں بڑھتی بدعنوانیاں،کرپشن کے الزام میں متعدد کسٹمز افسران معطل

کراچی(کسٹم بلیٹن)محکمہ کسٹمزکی جانب سے فیس لیس سسٹم گذشتہ سال 15دسمبرسے نافذکیاگیاتھالیکن اس میں افسران کی بدعنوانیاں ایک ماہ بعد ہی منظرعام پرآگئی تھیں،فیس لیس نافذہونے کے بعد سے اب تک کرپشن الزام میں درجنوں کسٹمزافسران کومعطل کیاجاچکاہے لیکن کسٹمزافسران کی رشوت کا تناسب بڑھ گیاہے جیساکہ پوسٹ کلیئرنس آڈٹ کی رپورٹ نے کسٹمزکے کھو کھلے دعوﺅں کی قلعی کھول دی تھی۔چیف کلکٹرجمیل ناصرکو ان کے عہدے سے ہٹاکرواجد علی کو چیف کلکٹرکے عہدے پر تعینات کیاگیاتاکہ چیف کلکٹرواجدعلی تاجربرادری کو زیادہ سے زیادہ سہولیت فراہم کریں ۔لیکن تمام ترکوششوں کے بعد افسران میں پھیلاکرپشن کاناسورختم نہیں ہورہا ،فیس لیس سے قبل جو کام دس ہزارمیں ہوجاتاتھا اب ہوکام لاکھوں روپے میں کیاجاتاہے،محکمہ میں کرپشن کی ایک اوربڑی وجہ خواتین افسران کی تعیناتی ہے خواتین کی کرپشن نے مردوں کو بھی دس ہاتھ پیچھے چھوڑدیاہے یہ محض الزام نہیں ہے۔چیف کلکٹرواجد علی نے کسٹمزافسران کی کرپشن کے خلاف سخت پالیسی اختیارکررکھی ہے ۔چیف کلکٹرواجد علی نے سینٹرل یونٹ (سی ای یو) اورسینٹرل اپریزنگ یونٹ میں تعینات 19افسران کو کرپشن کے الزام میں معطل کردیاگیاہے ۔ معطلی کا فیصلہ محکمانہ کارروائی کے اختتام تک موثر رہے گا۔سینٹرل ایگزامینشن یونٹ کے معطل افسران میں انسپکٹر/آئی او محمد جواد رفیق، محمد نعمان اشرف، اسامہ طارق، محمد عدنان اشرف، محمد علی اسلم جبکہ اپریزنگ آفیسرز وحید الرحمٰن ،نازش نور،طیب حسین اور احتشام فہیم شامل ہیں ،واضح رہے کہ اب تک جتنے بھی افسران کو معطل کیاگیاہے وہ کسٹمزایجنٹس یاٹریڈرزکی شکایات پر کیاگیاہے جس میں افسران پر جرم ثابت نہ ہونے پردوبارہ سے نوکری پر بحال کردیاجاتاہے ۔ذرائع کے مطابق چیف کلکٹر کسٹمز واجد علی کی سخت ہدایات اور زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت یہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔ چیف کلکٹر واجد علی نے واضح کر رکھا ہے کہ کرپشن، غفلت اور بدعنوانی کے معاملے پر کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی اور محکمہ کسٹمز میں میرٹ، شفافیت اور نظم و ضبط کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button