Breaking NewsEham Khabar

کراچی سے چاہ بہار تک پہلی نجی فیری سروس کا آغاز، پاکستان کی بحری تاریخ میں سنگِ میل

کراچی(کسٹم بلیٹن)وفاقی وزیر برائے سمندری امور محمد جنید انور چوہدری نے گذشتہ روز کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) میں فیری ٹرمینل کا افتتاح کر کے پاکستان میں پہلی بار نجی شعبے کی فیری سروس کا باضابطہ آغاز کر دیا۔ اس تاریخی اقدام کو علاقائی رابطوں کے فروغ، ساحلی و مذہبی سیاحت کے استحکام اور پاکستان کی بلو اکانومی کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔کے پی ٹی فیری ٹرمینل میں منعقدہ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ منصوبہ محض سفری سہولت نہیں بلکہ معاشی مواقع، سیاحت کے فروغ اور بحری مسافر ٹرانسپورٹ میں جدت کا آغاز ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ فیری سروس کا لائسنس جاری کیا گیا ہے، جو نجی شعبے پر حکومتی اعتماد کا مظہر ہے۔وفاقی وزیر کے مطابق فیری سروس جنوری کے تیسرے ہفتے میں شروع ہونے کی توقع ہے، جو جدید، محفوظ اور پائیدار بحری سفر کے ان کے دیرینہ وڑن کی عملی تعبیر ہے۔ ابتدائی مرحلے میں پہلی فیری کراچی سے ایران کے شہر چاہ بہار کے لیے روانہ ہوگی، جس کے لیے کراچی پورٹ پر کسٹمز، اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) اور امیگریشن سمیت تمام ضروری سہولیات کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے۔محمد جنید انور چوہدری نے کہا کہ یہ منصوبہ وزیراعظم کے اس وڑن کے عین مطابق ہے جس کا مقصد پاکستان کی بلو اکانومی کی وسیع صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانا اور سمندری شعبے کو قومی معیشت کا اہم ستون بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے نہ صرف سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا بلکہ نجی شعبے کے لیے سازگار کاروباری ماحول فراہم کرنے کے حکومتی عزم کا عملی اظہار بھی ہوگا۔وفاقی وزیر نے انکشاف کیا کہ تین سے چار مزید سرمایہ کار فیری سروس کے لیے لائسنس حاصل کرنے میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں، جس سے مستقبل میں مسقط، بصرہ اور دیگر علاقائی بندرگاہوں کے لیے فیری سروسز کے آغاز کی راہ ہموار ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان منصوبوں سے ہوٹلنگ، ٹرانسپورٹ، سیاحت اور دیگر متعلقہ شعبوں میں روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔انہوں نے تاجر برادری پر زور دیا کہ وہ پاکستانی بندرگاہوں کے ساتھ کاروباری مواقع تلاش کریں اور جدید و تخلیقی منصوبے پیش کریں، جبکہ وزارتِ سمندری امور کی جانب سے ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔اس موقع پر وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ پورٹ قاسم اتھارٹی جلد ایک جدید صنعتی زون کے قیام کا منصوبہ متعارف کرائے گی، جس کا مقصد سرمایہ کاروں کو جدید انفراسٹرکچر فراہم کرنا، برآمدات میں اضافہ اور صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔ادھر فیری سروس چلانے والی کمپنی سی کیپرز کے چیف ایگزیکٹو محمد عمر نے بتایا کہ فیری کا کرایہ ہوائی سفر کے مقابلے میں 50 فیصد کم رکھا گیا ہے۔ فیری سروس ہفتے میں تین بار آمد و رفت کرے گی، جس میں فی مسافر کرایہ 50 ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ کراچی سے چاہ بہار کا سفر 12 سے 14 گھنٹے میں مکمل ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ سروس کے باقاعدہ آغاز سے قبل ہی تین فیری ٹرپس مکمل طور پر بک ہو چکی ہیں، جو عوامی دلچسپی کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ مہینوں میں مسقط اور بصرہ کے لیے دو بڑی فیریاں متعارف کرانے کا بھی منصوبہ ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ ریئر ایڈمرل (ر) شاہد احمد نے بتایا کہ گزشتہ سال کے دوران کے پی ٹی نے 50 ملین ٹن سے زائد کارگو اور 26 لاکھ کنٹینرز ہینڈل کیے۔ انہوں نے کہا کہ بندرگاہ پر نئی مشینری نصب کی جا رہی ہے جبکہ ڈیجیٹلائزیشن اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر بھی تیزی سے کام جاری ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے 1500 کنال سے زائد سرکاری اراضی واگزار کرائی گئی ہے اور بندرگاہوں کو شارع بھٹو اور لیاری ایکسپریس وے سے منسلک کرنے کے منصوبے بھی تکمیل کے مراحل میں ہیں۔افتتاحی تقریب میں وزارتِ سمندری امور، کراچی پورٹ ٹرسٹ، کسٹمز، اینٹی نارکوٹکس فورس، امیگریشن حکام کے علاوہ شپنگ اور کاروباری برادری کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت ک

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button