پی آئی اے کی لاہور۔لندن براہِ راست پروازوں کی بحالی، 30 مارچ 2026 سے آغاز

اسلام آباد(کسٹم بلیٹن )پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) نے اعلان کیا ہے کہ قومی ایئرلائن 30 مارچ 2026 سے لاہور اور لندن کے درمیان براہِ راست پروازیں دوبارہ شروع کرے گی، جو برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں اور بیرونِ ملک سفر کرنے والوں کے لیے ایک بڑی سہولت ثابت ہوگی۔ترجمان پی آئی اے کے مطابق ایئرلائن مارچ کے اختتام تک برطانیہ کے لیے اپنی پروازوں کی تعداد بتدریج بڑھا کر ہفتہ وار سات پروازوں تک لے جانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ اس فیصلے کا مقصد برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں اور تارکینِ وطن کی طویل عرصے سے موجود سفری ضروریات کو پورا کرنا ہے۔یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پی آئی اے نے حال ہی میں مانچسٹر کے لیے پروازوں کی بحالی کی ہے اور اسلام آباد۔لندن براہِ راست پروازیں 29 مارچ 2026 سے شروع کرنے کی بھی تصدیق کر دی ہے۔ اسلام آباد اور لاہور سے لندن کے لیے پروازوں کی مسلسل اور قریبی تاریخوں میں شروعات کو مسافروں کی زیادہ طلب اور آپریشنل تیاریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حکمتِ عملی کے تحت ترتیب دیا گیا ہے۔پی آئی اے کے ترجمان نے بتایا کہ برطانیہ کے لیے پروازوں میں اضافہ مسافروں کی بھرپور طلب اور وہاں مقیم پاکستانی و کشمیری کمیونٹی کے دیرینہ مطالبات کے پیشِ نظر کیا جا رہا ہے، جبکہ اس وقت برطانیہ جانے والی تمام پروازیں مکمل طور پر بھر چکی ہیں۔جاری کردہ فلائٹ شیڈول کے مطابق پی آئی اے اسلام آباد سے لندن کے لیے ہفتہ وار تین پروازیں جبکہ لاہور سے لندن کے لیے ہفتہ وار ایک پرواز چلائے گی۔ لاہور۔لندن روٹ کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، جس سے پنجاب اور گرد و نواح کے علاقوں کے مسافروں کو براہِ راست بین الاقوامی سفری سہولت میسر آئے گی۔ترجمان کے مطابق مستقبل میں پاکستان کے دیگر شہروں سے بھی برطانیہ کے مختلف شہروں کے لیے پروازیں شروع کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یورپی آپریشنز کی معطلی سے قبل پی آئی اے برطانیہ کے لیے ہفتہ وار 22 سے زائد پروازیں چلا رہی تھی اور اب نیٹ ورک میں توسیع کے بعد اس تعداد سے تجاوز کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔برطانیہ کے لیے پروازوں کی بحالی یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی (EASA) کی جانب سے پی آئی اے پر عائد پابندی کے خاتمے کے بعد ممکن ہوئی،جو 2020 سے نافذ تھی۔ اس فیصلے کو برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نے خوش آئند قرار دیا ہے، جو یورپ کی بڑی تارکینِ وطن برادریوں میں شمار ہوتی ہے۔پی آئی اے کی برطانیہ میں توسیع شدہ آپریشنز سے مسافروں کی آمدورفت میں اضافہ، عوامی روابط کے فروغ اور پاکستان و برطانیہ کے درمیان کم خرچ سفری سہولیات کی فراہمی متوقع ہے۔ قومی ایئرلائن گزشتہ چند برسوں کے ریگولیٹری چیلنجز کے بعد اپنی بین الاقوامی سروسز کی بحالی اور مسافروں کے اعتماد کی واپسی کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔




