Breaking NewsEham Khabar

سرجیل سیچرز ٹیکس تنازعہ‘ دوبارہ جانچ پڑتال کا حکم

اکراچی(کسٹم بلیٹن)وفاقی ٹیکس محتسب نے میسرز ہورا فارما (پرائیویٹ) لمیٹڈ، کراچی کی جانب سے دائر شکایت پر فیصلہ سناتے ہوئے سرجیکل سیچرز کی درآمد سے متعلق کسٹمز اور ٹیکس تنازع کو وفاقی بورڈ آف ریونیو کو دوبارہ جانچ اور حتمی تعین کے لیے واپس بھجوا دیا ہے۔ محتسب نے ہدایت کی ہے کہ اس معاملے کو کلاسفکیشن کمیٹی کے ذریعے دیگر اسی نوعیت کی درآمدات کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے ایک مرتبہ ہمیشہ کے لیے طے کیا جائے۔تفصیلات کے مطابق ہورا فارما، جو ملٹی نیشنل کمپنی جانسن اینڈ جانسن کی مجاز ڈسٹری بیوٹر ہے، نے سرجیکل سیچرز درآمد کیے تھے اور انہیں پی سی ٹی ہیڈنگ 9938 کے تحت ڈسپوزایبل میڈیکل ڈیوائسز قرار دیتے ہوئے کسٹمز ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس سے استثنیٰ کا دعویٰ کیا۔ تاہم ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن (کسٹمز) نے دسمبر 2024 میں ان کنسائمنٹس پر اعتراض اٹھاتے ہوئے انٹیلی جنس الرٹ جاری کیا، جس کے نتیجے میں سامان روک لیا گیا اور بھاری ڈیمرج چارجز عائد ہوئے۔کسٹمز ایئرپورٹس کراچی کی جانب سے 20 جنوری اور 4 فروری 2025 کو جاری خطوط میں مو¿قف اختیار کیا گیا کہ سرجیکل سیچرز سنگل یوز / ون ٹائم یوز اشیاءہیں، اس لیے انہیں ڈسپوزایبل تصور کرتے ہوئے استثنیٰ دیا جانا درست ہے۔ دوسری جانب ایف بی آر کے پالیسی ونگ نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈراپ) کی 27 مئی 2025 کی وضاحت کی بنیاد پر 3 جولائی 2025 کو جاری خط میں یہ مو¿قف اپنایا کہ سیچرز اگرچہ ایک بار ہی قابل استعمال ہیں، تاہم انہیں ڈسپوزایبل کے زمرے میں نہیں رکھا جا سکتا، جس پر تنازع شدت اختیار کر گیا۔ ہورا فارما نے وفاقی ٹیکس محتسب سے رجوع کرتے ہوئے مو¿قف اختیار کیا کہ ڈراپ اور ہیلتھ کیئر ڈیوائسز ایسوسی ایشن آف پاکستان دونوں واضح طور پر سرجیکل سیچرز کو سنگل یوز اور ڈسپوزایبل میڈیکل ڈیوائسز قرار دے چکے ہیں جبکہ بین الاقوامی معیار اور طبی ضوابط کے مطابق بھی سیچرز کو دوبارہ استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ کمپنی کے مطابق ایف بی آر کی تاخیر اور متضاد تشریحات کے باعث نہ صرف مالی نقصان ہوا بلکہ اسپتالوں اور ٹراما سینٹرز میں ضروری طبی سامان کی فراہمی بھی متاثر ہوئی۔ وفاقی ٹیکس محتسب نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ اگرچہ یہ معاملہ تکنیکی نوعیت کا ہے اور اس کا تعلق درجہ بندی سے ہے، تاہم جب ایک ہی نوعیت کی اشیاءکے بارے میں مختلف آراءسامنے آئیں اور درآمدکنندگان کو متعدد فورمز پر جانا پڑے تو یہ صورتحال مال ایڈمنسٹریشن کے زمرے میں آ سکتی ہے۔ محتسب نے واضح کیا کہ اصل سوال یہ ہے کہ آیا سنگل یوز اشیاءکو ڈسپوزایبل تصور کیا جا سکتا ہے یا نہیں، جس کا فیصلہ یکساں پالیسی کے تحت ہونا ضروری ہے۔ فیصلے میں ایف بی آر کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سرجیکل سیچرز کے معاملے کو گزشتہ دس برسوں کے دوران دیگر درآمد کنندگان کی اسی نوعیت کی درآمدات کے ساتھ موازنہ کرے اور یہ طے کرے کہ انہیں عمومی طور پر کس پی سی ٹی ہیڈنگ کے تحت رکھا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے معاملہ کلاسفکیشن کمیٹی کے سپرد کرنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے تنازعات سے بچا جا سکے۔ وفاقی ٹیکس محتسب نے مزید قرار دیا کہ نئی درجہ بندی کے بعد اگر کوئی فریق مطمئن نہ ہو تو وہ قانون کے مطابق دوبارہ نمائندگی دائر کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف ہوڑا فارما بلکہ طبی آلات اور ڈسپوزایبل میڈیکل مصنوعات کی درآمد سے وابستہ پوری انڈسٹری کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے کسٹمز درجہ بندی اور ٹیکس پالیسی میں یکسانیت آنے کی توقع ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button