عدالت نے ایڈووکیٹ انیل ضیاءکے دلائل کو منظور کرتے ہوئے نیلام شدہ گاڑی ضبطی کا محکمہ کسٹمز کا فیصلہ کالعدم

اسلام آباد (کسٹم بلیٹن) کسٹم سے نیلام کی گئی گاڑی محکمہ کسٹمز نے دوبارہ پکڑ کر گاڑی کے مالک کو ہراساں کرنے کی کوشش کی جس پر گاڑی کے مالک نے عدالت سے رجوع کرکے انصاف طلب کرنے اور کیس کی پیروی کے لئے معروف قانون دان ایڈووکیٹ انیل ضیاءسے معاونت طلب کرلی جنہوں نے اپنے موکل کی جانب سے عدالت میں ٹھوس ثبوت پیش کئے۔ جس پر عدالت نے ایڈووکیٹ انیل ضیاءکے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے محکمہ کسٹمز کے دلائل مسترد کردیئے اور گاڑی کو ریلیز کرنے کے احکامات جاری کردیئے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل اسی کیس میں ایڈجیوڈکشن اور ٹربیونل بھی ایڈووکیٹ انیل ضیاءکے حق میں فیصلہ سنا چکی ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایک عام شہری کو بیورو کریٹک ہراسانی سے نجات دلاتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلہ سنایا ہے جس میں محکمہ کسٹمز کی طرف سے 5 سال سے زائد عرصے بعد درج کی گئی گاڑی کی ضبطی کی کوشش کو مسترد کر دیا گیا۔ معزز عدالت نے کسٹمز ریفرنس نمبر 62 آف 2023 پر 15 دسمبر کو اپنا تفصیلی فیصلہ سنایا، جس میں ڈپٹی کلکٹر کسٹمز پریونٹیو ماڈل کسٹمز کلکٹریٹ اسلام آباد کی اپیل خارج کر دی گئی۔ یہ کیس نور الامین قریشی کی گاڑی سے متعلق تھا، جسے کسٹمز نے مبینہ طور پر جعلی نیلامی دستاویزات کی بنیاد پر اسمگل شدہ قرار دے کر ضبط کرنے کی کوشش کی تھی۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ گاڑی جولائی 2014 میں درآمد ہوئی، اکتوبر 2014 میں کسٹمز کی نگرانی میں نیلام ہوئی اور اپریل 2015 میں موٹر رجسٹریشن اتھارٹی سے رجسٹر ہو گئی۔ نور الامین قریشی اس کے تیسری مالک تھے جو مئی 2016 میں اسے بونافائیڈ (دیانتدارانہ) طور پر خرید چکے تھے۔ کسٹمز نے 30 جون 2020 کو شوکاز نوٹس جاری کیا، جو 5 سال کی حد سے تجاوز کر چکا تھا۔ جسٹس بابر ستار نے فیصلے میں لکھا: یہ ایک طے شدہ اصول ہے کہ کسٹمز اپیلٹ ٹریبیونل آخری فیکٹ فائنڈنگ فورم ہے۔ جب ایڈجوڈیکیشن کلکٹر اور ٹریبیونل دونوں نے نیلامی کے جائز ہونے کی تصدیق کی ہے تو ہائی کورٹ کو ان فیکٹس پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت نہیں۔ نور الامین قریشی کے وکیل ایڈووکیٹ انیل ضیاءنے عدالت کو بتایا کہ ان کے کلائنٹ نے قانونی طور پر رجسٹرڈ گاڑی خریدی تھی اور کسٹمز کی الزامات بے بنیاد تھیں۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو بنیاد بناتے ہوئے کہا کہ ایسے کیسز میں شہریوں کو ”قانونی عذر“ کا دفاع ملنا چاہیے، کیونکہ رجسٹریشن ہی اس بات کی ضمانت ہے کہ ڈیوٹی اور ٹیکس ادا ہو چکے ہیں۔ عدالت نے مزید کہا کہ جب تک مالک پر فراڈ کا ثبوت نہ ہو، تو آخری مالک کو سزا نہیں دی جا سکتی۔ اس سے ہزاروں شہری مستفید ہوں گے جو استعمال شدہ گاڑیاں خریدتے ہیں اور برسوں بعد کسٹمز کی کارروائی کا شکار ہوتے ہیں۔ محکمہ کسٹمز کے وکیل محمد فہیم خان نے استدلال کیا کہ جعلی دستاویزات کی وجہ سے سیکشن 32 کی حد نہیں ہوتی، مگر عدالت نے اسے مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی رائے کو حتمی قرار دیا۔ یہ فیصلہ شہریوں کے حقوق کی حفاظت کا ایک روشن باب ہے اور کسٹمز محکمے کو خبردار کرتا ہے کہ تاخیر سے کارروائی قانونی نہیں۔



