گڈز ڈیکلریشن کی منسوخی کا طریقہ کار آسان، کسٹمز کلکٹریٹ ایسٹ کا نیا حکم نامہ جاری

کراچی(کسٹم بلیٹن) کلکٹریٹ آف کسٹمز ایپریزمنٹ ایسٹ کراچی نے درآمدی تجارت میں سہولت پیدا کرنے، حقیقی معاملات میں غیر ضروری تاخیر سے بچنے اور گڈز ڈیکلریشن کی منسوخی کے عمل کو مزید آسان بنانے کے لیے نیا طریقہ کار جاری کر دیا ہے۔اس سلسلے میں کلکٹریٹ آف کسٹمز ایپریزمنٹ ایسٹ کی جانب سے آفس آرڈر نمبر 34جاری کیا گیا ہے۔جاری کردہ حکم نامے کے مطابق گڈز ڈیکلریشن کی منسوخی کے حوالے سے جاری کیے گئے حکم نامے میں مقرر کردہ شرائط میں نرمی کی گئی ہے۔ نئے حکم نامے کا بنیادی مقصد درآمد کنندگان کو سہولت فراہم کرنا اور ایسے حقیقی معاملات میں غیر ضروری تاخیر کا خاتمہ ہے جہاں جہاز یا سامان سے متعلق ایسی صورت حال پیدا ہو جائے جس کے باعث درآمدی عمل آگے نہ بڑھ سکے۔حکم نامے کے مطابق بعض مخصوص حالات میں سابقہ حکم نامے کے سلسلے وار نکات اول تا ششم میں درج شرائط سے استثنیٰ دیا گیا ہے، تاکہ حقیقی اور قابل تصدیق معاملات میں گڈز ڈیکلریشن کی منسوخی کا عمل بلاوجہ طویل نہ ہو۔نئے طریقہ کار کے تحت اگر کوئی بحری جہاز متعلقہ بندرگاہ پر پہنچا ہی نہ ہو یا کسی غیر متوقع صورت حال، ناگہانی آفت یا ایسے مجبوری کے حالات کے باعث اس کا سفر منسوخ ہو گیا ہو جنہیں متعلقہ فریق کے اختیار سے باہر سمجھا جاتا ہے، تو ایسی صورت میں گڈز ڈیکلریشن کی منسوخی کے لیے درخواست دی جا سکے گی۔اسی طرح اگر درآمدی سامان متعلقہ بندرگاہ یا ٹرمینل پر اتارا ہی نہ گیا ہو تو بھی مقررہ طریقہ کار کے تحت گڈز ڈیکلریشن کی منسوخی کی درخواست قابل غور ہوگی۔حکم نامے میں درخواست جمع کرانے کے طریقہ کار کے حوالے سے واضح کیا گیا ہے کہ درآمد کنندہ یا اس کی جانب سے مجاز کسٹمز ایجنٹ وی بوک سسٹم کے ذریعے گڈز ڈیکلریشن کی منسوخی کی درخواست جمع کرائے گا۔درخواست کے ساتھ منسوخی کی مختصر وجوہات بیان کرنا لازم ہوگا۔ اس کے علاوہ دستیاب متعلقہ ثبوت بھی درخواست کے ساتھ منسلک کیے جائیں گے، جن میں شپنگ لائن یا ٹرمینل کی جانب سے جاری کردہ متعلقہ اطلاع یا تصدیقی دستاویز شامل ہو سکتی ہے۔درآمد کنندہ یا متعلقہ مجاز فریق کو اس امر کا حلفیہ اقرار بھی جمع کرانا ہوگا کہ متعلقہ سامان بندرگاہ یا ٹرمینل پر اتارا نہیں گیا۔ اس حلفیہ اقرار کا مقصد متعلقہ کسٹمز حکام کو یہ یقین دہانی کرانا ہے کہ منسوخی کی درخواست حقیقی صورت حال کی بنیاد پر دی گئی ہے۔حکم نامے کے مطابق درخواست موصول ہونے کے بعد اسسٹنٹ کلکٹر یا ڈپٹی کلکٹر، متعلقہ انتظامی شعبے یا متعلقہ گروپ کی جانب سے دستیاب سرکاری معلومات کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے وی بوک نظام، درآمدی سامان کی آمد کا اندراج، برتن کی آمد سے متعلق تصدیقی رپورٹ اور متعلقہ ٹرمینل کی موجودہ صورت حال سمیت دستیاب ریکارڈ سے مدد لی جائے گی۔متعلقہ افسر اس امر کی تصدیق کرے گا کہ آیا بحری جہاز واقعی متعلقہ بندرگاہ پر پہنچا، آیا سامان متعلقہ بندرگاہ یا ٹرمینل پر اتارا گیا یا نہیں، اور آیا گڈز ڈیکلریشن کی منسوخی کے لیے پیش کی گئی وجوہات اور ثبوت دستیاب ریکارڈ سے مطابقت رکھتے ہیں۔حکم نامے میں اس عمل کے لیے واضح مدت بھی مقرر کی گئی ہے۔ تصدیق کا عمل مکمل ہونے کے بعد48گھنٹوں کے اندر گڈز ڈیکلریشن کو منسوخ کرنا لازمی ہوگا۔ اس اقدام کا مقصد حقیقی معاملات میں درآمد کنندگان کو غیر ضروری انتظار، اضافی کارروائی اور انتظامی تاخیر سے محفوظ رکھنا ہے۔کسٹمز حکام کی جانب سے جاری کردہ نئے طریقہ کار میں اس امر پر بھی زور دیا گیا ہے کہ درخواستوں پر کارروائی دستیاب سرکاری ریکارڈ اور قابل تصدیق معلومات کی بنیاد پر کی جائے گی، تاکہ ایک جانب حقیقی درآمد کنندگان کو سہولت حاصل ہو اور دوسری جانب غلط یا غیر حقیقی دعووں کی روک تھام بھی ممکن رہے۔حکم نامے کے مطابق یہ نیا طریقہ کارعارضی انتظام کے طور پر اس وقت تک نافذ العمل رہے گا جب تک وی بوک نظام میں گڈز ڈیکلریشن کی خودکار منسوخی کا نظام فعال نہیں ہو جاتا۔خودکار منسوخی کا نظام فعال ہونے کے بعد گڈز ڈیکلریشن کی منسوخی کا عمل مکمل طور پر خودکار نظام کے تحت انجام دیا جائے گا اور اس مقصد کے لیے دستی کارروائی کی ضرورت کم یا ختم ہو جائے گی۔کسٹمز کلکٹریٹ اپریزمنٹ ایسٹ کی جانب سے جاری اس حکم نامے کو درآمدی تجارت میں سہولت، انتظامی عمل میں تیزی اور حقیقی معاملات میں غیر ضروری تاخیر کے خاتمے کی جانب ایک اہم انتظامی اقدام قرار دیا جا سکتا ہے۔ نئے طریقہ کار کے تحت ایسے معاملات، جن میں جہاز بندرگاہ تک پہنچا ہی نہ ہو یا سامان متعلقہ بندرگاہ یا ٹرمینل پر اتارا نہ گیا ہو، ان میں مقررہ تصدیق کے بعد گڈز ڈیکلریشن کی منسوخی کے لیے واضح اور نسبتاًمختصر طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔



