کوسٹ گارڈزکو درآمدی سامان کی بلاوجہ چیکنگ سے روک دیاگیا

کراچی (کسٹم بلیٹن )کوسٹ گارڈز کو قانونی طور پر کلیئرہونے والے مسافروں کے سامان یا تجارتی سامان کی بلاوجہ چیکنگ سے روک دیا گیا ہے تاکہ امپورٹ، ایکسپورٹ اور عام عوام کی نقل و حرکت میں رکاوٹ نہ بنے جبکہ کوسٹ گارڈزکو سٹی میونسپل حدود، کسٹمز ایریاز، کسٹمز اسٹیشنز، بندرگاہوں، بارڈر کسٹمز اسٹیشنز، بین الاقوامی ہوائی اڈوں اور بونڈڈ ویئر ہاو¿سز میں کوسٹ گارڈز کو مداخلیت کا اختیار نہیں ہوگا۔اس سلسلے میںایف بی آرکی جانب سے ایس آراو1436جاری کرکے ایس آراو903کو منسوخ کردیاگیاہے۔ایس آرمیں کہاگیاہے کہ پاکستان کوسٹ گارڈز کے نان کمیشنڈ آفیسرز، جونیئر کمیشنڈ آفیسرز، کمیشنڈ آفیسرز اور کمانڈنٹ کو ان کے متعلقہ دائرہ اختیار میں کسٹمز ایکٹ کی مختلف شقوں کے تحت کارروائی کی قانونی منظوری دے دی گئی ہے جس میں کوسٹ کوسٹ گارڈز کے عملے کو یہ اختیارات صرف ساحلی پٹی (کوسٹل لائن) کے 50 کلومیٹر کے اندرونی علاقے میں استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔کوسٹ گارڈزکو یہ اختیارات پاکستان کسٹمز کی جگہ لینے کے لیے نہیں بلکہ ان کی معاونت کے لیے دیے گئے ہیں، اور کوسٹ گارڈز کسٹمز حکام کو ان کے فرائض کی انجام دہی میں مدد فراہم کریں گے۔کوسٹ گارڈزکی جانب سے تحویل میں لئے گئے اسمگل شدہ یا مشکوک سامان صرف منظور شدہ کسٹمز اسٹیٹ ویئر ہاو¿س میں جمع کرایا جائے گا اور کارروائی کی رپورٹ 15 دن کے اندر متعلقہ ایڈجوڈیکیشن کلکٹریٹ اور کلکٹر کسٹمز (انفورسمنٹ) کو جمع کرانا لازم ہوگی۔تمام ونگز کے آفیسر کمانڈنگ (اوسیز) ہر ماہ کی 5 تاریخ تک کراچی یا گڈانی کے کلکٹر کسٹمز (انفورسمنٹ) کو ضبط شدہ سامان، قیمت اور جگہ کی تفصیلات پر مشتمل رپورٹ بھیجنے کے پابند ہوں گے جبکہ قانونی مراحل کی مکمل ہونے کے بعد ضبط شدہ سامان اور گاڑیوں کی نیلامی کلکٹر کسٹمز (انفورسمنٹ) کسٹمز ایکٹ اور متعلقہ قوانین کے تحت کریں گے، جبکہ جلد خراب ہونے والی اشیاءکو فوری طور پر کسٹمز رولز کے مطابق تلف یا فروخت کیا جائے گااورآپریشنز میں بہتری اور تحفظات کے حل کے لیے چیف کلکٹر کسٹمز (انفورسمنٹ) اسلام آباد اور ڈی جی پاکستان کوسٹ گارڈز کے مابین ہر ماہ کوآرڈینیشن میٹنگ کا انعقاد کیا جائے گا۔ایف بی آرکی جانب سے جاری کئے جانے والے احکامات 30 جون 2027 تک نافذ العمل رہیں گے۔ مدت ختم ہونے سے قبل چیف کلکٹر کسٹمز ایف بی آر کو کارکردگی رپورٹ پیش کریں گے، جس کی روشنی میں عملی اقدامات میں مزید توسیع کا فیصلہ کیا جائے گا۔


