Breaking NewsEham KhabarExclusive Reports

کسٹمز ایجنٹس کیلئے جامع تربیتی پروگرام،350 سے زائد امیدواروں کے لیے خصوصی تربیتی سیشن

کراچی (کسٹم بلیٹن) کراچی کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن نے کسٹمز ایجنٹس لائسنسنگ امتحان 2026 کے امیدواروں کی پیشہ ورانہ استعداد بڑھانے اور انہیں نئے امتحانی نظام سے ہم آہنگ کرنے کے لیے رنگون والا آڈیٹوریم میں ایک روزہ خصوصی تربیتی اور آگاہی سیشن کا انعقاد کیا، جس میں 350 سے زائد عارضی لائسنس ہولڈرز اور نئے درخواست گزاروں نے شرکت کی۔ شرکاء نے اس اقدام کو بروقت اور انتہائی مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ نئے اور سخت امتحانی معیار سے متعلق خدشات دور کرنے میں یہ پروگرام اہم کردار ادا کرے گا۔ تربیتی سیشن کا مقصد امیدواروں کو جدید کمپیوٹرائزڈ کسٹمز نظام، قانونی تقاضوں، امتحانی طریقہ کار، عملی مسائل اور پیشہ ورانہ مہارتوں سے آگاہ کرنا تھا تاکہ وہ امتحان میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں۔ پروگرام میں مختلف شعبوں کے ممتاز ماہرین نے تفصیلی لیکچرز دیے۔ سینئر انسٹرکٹر عارف شیخ نے کمپیوٹر مہارت، خصوصاً مائیکروسافٹ آفس کے عملی استعمال پر تربیت فراہم کی، جبکہ پاکستان سنگل ونڈو کے ماہرین نے ویبوک، پاکستان سنگل ونڈو، الیکٹرانک کلیئرنس، آن لائن پراسیسنگ اور ڈیجیٹل کسٹمز نظام سے متعلق عملی رہنمائی دی۔ سابق رکن کسٹمز، وفاقی مجلس محاصل سید تنویر احمد نے کسٹمز ایکٹ، کسٹمز رولز، متعلقہ قوانین اور عملی طریقہ کار پر جامع لیکچر دیتے ہوئے امتحان میں کامیابی کے لیے اہم قانونی نکات بیان کیے۔ بعد ازاں سینئر ایڈووکیٹ اور سابق سینئر کسٹمز افسر ڈاکٹر شہاب امام نے فرضی امتحان، سوال و جواب، کوئز سیشن اور امتحانی تیاری کے مو¿ثر طریقہ کار پر تفصیلی سیشن منعقد کیا، جس میں شرکائ نے بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا۔ تقریب سے استقبالیہ خطاب کرتے ہوئے کے سی اے اے کے جنرل سیکریٹری وقاص انجم شیخ نے کہا کہ نئے لائسنسنگ نظام اور سخت امتحانی معیار کے باعث کسٹمز ایجنٹس برادری میں بے چینی پائی جاتی ہے، تاہم ایسوسی ایشن اپنے تمام اراکین کے ساتھ کھڑی ہے اور انہیں ہر ممکن تعلیمی، فنی اور پیشہ ورانہ معاونت فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ عارضی لائسنس رکھنے والے 80 فیصد سے زائد کسٹمز ایجنٹس گزشتہ تقریباً 10 برس سے ملکی تجارت، بندرگاہی سرگرمیوں اور درآمدی و برآمدی نظام میں عملی خدمات انجام دے رہے ہیں اور یہی افراد پاکستان کے تجارتی و لاجسٹکس نظام کا اہم ستون ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 15 سے 20 برس کا عملی تجربہ رکھنے والے پیشہ ور افراد سے اچانک انتہائی بلند معیار کے امتحان میں کامیابی کی توقع ایک بڑا عملی چیلنج ہے، اس لیے ان کے تجربے اور مہارت کو بھی مناسب اہمیت دی جانی چاہیے۔ وقاص انجم شیخ نے واضح کیا کہ ایسوسی ایشن امتحانی معیار کی مخالف نہیں بلکہ پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں بہتری کی حامی ہے، تاہم تجربہ کار کسٹمز ایجنٹس کو نئے نظام سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مناسب سہولت، رہنمائی اور عبوری معاونت فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ کراچی کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن آئندہ بھی تربیتی پروگرام، ورکشاپس، فرضی امتحانات اور رہنمائی سیشنز کا باقاعدگی سے انعقاد جاری رکھے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ امیدوار مستقل کسٹمز ایجنٹس لائسنس حاصل کر کے ملکی تجارت، صنعت اور معیشت کی ترقی میں مو¿ثر کردار ادا کر سکیں۔ تقریب کے اختتام پر شرکائ نے ایسوسی ایشن کی اس کاوش کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ بدلتے قوانین، ڈیجیٹل نظام اور جدید پیشہ ورانہ تقاضوں سے ہم آہنگ رکھنے کے لیے اس نوعیت کے تربیتی پروگرام مستقل بنیادوں پر جاری رکھے جائیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button