Anti-SmugglingBreaking NewsEham KhabarExclusive Reports

دکانوں ، گوداموں پررات کوچھاپے مارنا اور تالے توڑ کر کارروائیاں روک دی گئیں، کلکٹر انفورسمنٹ عمر شفیق

کراچی (کسٹم بلیٹن) کسٹمز انفورسمنٹ کراچی نے اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں کے طریقہ کار میں اہم تبدیلی کا فیصلہ کرتے ہوئے رات گئے دکانوں اور گوداموں پر چھاپے مار کر تالے توڑنے اور فوری طور پر سامان ضبط کرنے کی پالیسی ترک کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ عمر شفیق کے مطابق اب خفیہ اطلاع یا مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر کسی بھی مشکوک دکان، گودام یا تجارتی مقام کو فوری طور پر سیل کیا جائے گا، تاہم رات کے وقت تالے توڑ کر اندر موجود سامان قبضے میں لینے کی کارروائی نہیں کی جائے گی۔تفصیلات کے مطابق نئی حکمت عملی کے تحت متعلقہ دکان یا گودام کے مالک کو موقع فراہم کیا جائے گا کہ وہ وہاں موجود درآمدی سامان سے متعلق قانونی درآمدی دستاویزات، کسٹمز کلیئرنس اور دیگر متعلقہ ریکارڈ پیش کرے۔ اگر جانچ پڑتال کے بعد یہ ثابت ہو گیا کہ سامان قانونی طور پر درآمد کیا گیا ہے اور تمام دستاویزات درست ہیں تو سیل فوری طور پر ختم کر دی جائے گی اور تاجر کو اپنا کاروبار معمول کے مطابق جاری رکھنے کی اجازت ہوگی۔تاہم اگر دستاویزات پیش نہ کی جا سکیں یا تحقیقات کے دوران یہ ثابت ہو جائے کہ گودام یا دکان میں موجود سامان اسمگل شدہ یا غیر قانونی ذرائع سے لایا گیا ہے تو کسٹمز انفورسمنٹ نہ صرف پورا سامان ضبط کرے گی بلکہ متعلقہ شخص کے خلاف کسٹمز ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی، جس میں گرفتاری بھی شامل ہو سکتی ہے۔کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ عمر شفیق نے بتایا کہ کارروائی کے اس نئے طریقہ کار کا مقصد ایک جانب اسمگلنگ کے خلاف موثر کارروائیوں کو جاری رکھنا ہے جبکہ دوسری جانب قانون کی پاسداری کرنے والے تاجروں کو غیر ضروری مشکلات، کاروباری نقصان اور شکایات سے بچانا بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی ماہ کے دوران مختلف ٹریڈ یونینز، مارکیٹ ایسوسی ایشنز اور تاجر تنظیموں کی جانب سے رات گئے چھاپوں، تالے توڑنے اور فوری ضبطگی کے حوالے سے متعدد شکایات موصول ہوئی تھیں، جنہیں سنجیدگی سے مدنظر رکھتے ہوئے یہ نیا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔عمر شفیق کے مطابق اس پالیسی پر عمل درآمد میں ٹریڈ یونینز کا تعاون بھی حاصل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تاجر تنظیمیں اور مارکیٹ نمائندگان اس بات کی نشاندہی کرنے میں معاونت کریں گے کہ سیل کیے گئے گودام یا دکان میں موجود سامان قانونی درآمدی ہے یا اسمگل شدہ، جس سے تحقیقات کو شفاف، تیز اور موثر بنانے میں مدد ملے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر اس نئے طریقہ کار کے مثبت نتائج سامنے آئے اور تاجر برادری کا اعتماد بھی بحال ہوا تو اس نظام کو مستقل بنیادوں پر نافذ کرنے کے لیے اسے باقاعدہ قانونی اور انتظامی حیثیت دینے پر بھی غور کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں بھی کسٹمز انفورسمنٹ اور کاروباری برادری کے درمیان اعتماد، شفافیت اور تعاون کی فضا برقرار رہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button