سیکڑوں درآمدی اشیاءپر ریگولیٹری ڈیوٹی کی نئی شرح نافذ

اسلام آباد(کسٹم بلیٹن) وفاقی حکومت نے مالی سال2026-27کے آغاز پر درآمدی اشیاءپر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی کی شرحوں میں بڑے پیمانے پر رد و بدل کرتے ہوئے نیا ایس آر او جاری کر دیا ہے، جس کے تحت سینکڑوں درآمدی اشیا پر ریگولیٹری ڈیوٹی کی نئی شرحیں یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوں گی۔ اس اقدام کا مقصد غیر ضروری درآمدات کی حوصلہ شکنی، مقامی صنعت کو تحفظ فراہم کرنا، درآمدی بل میں کمی لانا اور قومی محصولات میں اضافہ کرنا ہے۔سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی اشیا، جن میں گھریلو برقی آلات، موبائل فونز، ٹیلی کمیونیکیشن آلات، الیکٹرانکس، ریفریجریشن مصنوعات، ایئر کنڈیشنرز، پنکھے، لفٹس، جنریٹرز، بیرنگز، ٹیلی ویڑن، لائٹنگ مصنوعات، موٹر سائیکلیں، گاڑیاں، فرنیچر، کھیلوں کا سامان، گھڑیاں، چشمے، کھلونے، کاسمیٹکس، برقی کیبلز، ہوم اپلائنسز اور دیگر درآمدی مصنوعات شامل ہیں، پر مختلف شرحوں سے ریگولیٹری ڈیوٹی برقرار رکھی گئی ہے یا اس میں ردوبدل کیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق گھریلو استعمال کی متعدد مصنوعات میں شامل پنکھے، ایئر کنڈیشنرز، ریفریجریٹرز، واشنگ مشینیں، الیکٹرک اوون، ٹوسٹر، کافی اور چائے بنانے والی مشینیں، ہیئر ڈرائر، الیکٹرک آئرن، الیکٹرک رینجز اور دیگر برقی آلات پر مختلف شرحوں سے ریگولیٹری ڈیوٹی عائد رہے گی، جبکہ ان مصنوعات کی سی کے ڈی اور ایس کے ڈی کٹس پر کم شرح مقرر کی گئی ہے تاکہ مقامی اسمبلنگ انڈسٹری کو فروغ دیا جا سکے۔موبائل فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی کا موجودہ نظام بھی برقرار رکھا گیا ہے، جس کے تحت مختلف قیمتوں کے موبائل فون سیٹس پر ان کی سی اینڈ ایف ویلیو کے مطابق مقررہ رقم کی صورت میں ریگولیٹری ڈیوٹی وصول کی جائے گی۔ اسی طرح ٹیلی کمیونی کیشن آلات، ٹیلی ویژن، ایل ای ڈی، ایل سی ڈی اور او ایل ای ڈی اسکرینوں، الیکٹرونک پرزہ جات اور دیگر برقی مصنوعات پر بھی مقررہ شرحیں لاگو ہوں گی۔آٹو موبائل سیکٹر میں نئی، پرانی اور استعمال شدہ گاڑیوں، ایس یو ویز، فور بائی فور گاڑیوں، منی وینز، موٹر سائیکلوں، الیکٹرک ٹرانسپورٹ ڈیوائس، سائیکلوں اور دیگر گاڑیوں پر بھی مختلف شرحوں سے ریگولیٹری ڈیوٹی برقرار رکھی گئی ہے۔ اس کے علاوہ فرنیچر، لائٹنگ مصنوعات، گھڑیاں، چشمے، کھیلوں کے سامان، کھلونوں، تحائف، گھریلو استعمال کی مختلف اشیا اور دیگر لگڑری مصنوعات پر بھی ریگولیٹری ڈیوٹی نافذ رہے گی۔نوٹیفکیشن میں بعض درآمدات کو ریگولیٹری ڈیوٹی سے استثنا بھی دیا گیا ہے۔ ان میں آئل اینڈ گیس سیکٹر کی مخصوص درآمدات،جس میں5th شیڈول کے تحت مخصوص رعایتی درآمدات، عارضی درآمدی اسکیم، سیملیس پائپ بنانے والی صنعت کے لیے مخصوص اسٹیل بارز، ربڑ ایپرن اور کاٹس، آٹو ڈیویلپمنٹ پالیسی کے تحت نئے سرمایہ کاروں کی جانب سے درآمد کی جانے والی گاڑیاں، اور مقامی آٹو پارٹس انڈسٹری کے لیے خام مال کی درآمد شامل ہے۔نوٹیفکیشن میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ہوم اپلائنسز کی ایسی سی کے ڈی اور ایس کے ڈی کٹس، جن کی الگ شرح درج نہیں، ان پر چار فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد ہوگی تاکہ مقامی مینوفیکچرنگ اور اسمبلنگ کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔


