کنٹینرائزڈ کارگو اور امپورٹ ٹرانزٹ کے قواعد میں بڑی تبدیلیاں

اسلام آباد(کسٹم بلیٹن) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کسٹمز رولز 2001 میں اہم ترامیم کا مسودہ جاری کرتے ہوئے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے تین روز کے اندر اعتراضات اور تجاویز طلب کر لی ہیں۔ اس سلسلے میں ایس آر او1066جاری کیا گیا ہے، جس کے تحت درآمدی ٹرانزٹ کارگو، کنٹینرائزڈ کارگو اور بندرگاہ سے بندرگاہ کنسائمنٹس کی نقل و حرکت سے متعلق قواعد میں اہم تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔ایف بی آر کی جانب سے جاری مسودے کے مطابق کسٹمز رولز 2001 کی شق510(اے) میں ایک نئی شرط شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے تحت سیل نمبر اور کنٹینر نمبر درج کرنے کی لازمی شرط صرف کنٹینرائزڈ کارگو تک محدود ہوگی۔ اس ترمیم کے بعد بلک، بریک بلک یا دیگر نان کنٹینرائزڈ کارگو کے لیے سیل اور کنٹینر نمبر فراہم کرنا لازمی نہیں ہوگا، جس سے ایسی درآمدی و برآمدی کھیپوں کی دستاویزی کارروائی نسبتاً آسان اور تیز ہونے کی توقع ہے۔مجوزہ ترامیم کے تحت شق510(بی )کی شق (ڈٰ ی )میں بھی نمایاں تبدیلی تجویز کی گئی ہے۔ نئی شق کے مطابق درآمدی ٹرانزٹ کارگو کو بین الاقوامی منزل کی جانب روانہ کرنے کے لیے صرف اسی بندرگاہ یا ہوائی اڈے تک محدود نہیں رکھا جائے گا جہاں کارگو پاکستان پہنچا ہو، بلکہ کراچی کی کسی بھی دوسری بندرگاہ کے ذریعے بھی اس کی منتقلی کی اجازت ہوگی۔ اس اقدام سے کراچی کی مختلف بندرگاہوں کے درمیان آپریشنل لچک میں اضافہ ہوگا اور لاجسٹکس کے شعبے کو سہولت ملے گی۔ایس آر او میں مزید تجویز کیا گیا ہے کہ کراچی کی بندرگاہوں کے درمیان درآمدی ٹرانزٹ کارگو کی بندرگاہ سے بندرگاہ نقل و حرکت صرف ایسے لائسنس یافتہ بانڈڈ کیریئرز کے ذریعے کی جا سکے گی جوٹریکنگ رولز2023 کے تحت رجسٹرڈ ہوں۔ اس شرط کا مقصد کارگو کی مسلسل الیکٹرانک نگرانی، شفافیت، سیکیورٹی اور محفوظ ترسیل کو یقینی بنانا ہے تاکہ ٹرانزٹ کارگو کی نقل و حرکت ہر مرحلے پر مانیٹر کی جا سکے اور کسی بھی قسم کی بے ضابطگی یا اسمگلنگ کے امکانات کو کم کیا جا سکے۔ایف بی آر نے رول510(بی )کی شق (جی)کو مکمل طور پر حذف کرنے کی تجویز بھی دی ہے۔ اگرچہ جاری کردہ مسودے میں حذف کی جانے والی شق کی تفصیلات بیان نہیں کی گئیں، تاہم کسٹمز حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد درآمدی ٹرانزٹ کے قواعد کو جدید ٹریکنگ سسٹم اور موجودہ ریگولیٹری فریم ورک کے مطابق ہم آہنگ بنانا ہے۔ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ یہ ترامیم فی الحال مسودے کی صورت میں جاری کی گئی ہیں اور قانون کے مطابق تمام متعلقہ فریقین، جن میں درآمد کنندگان، برآمد کنندگان، شپنگ لائنز، بانڈڈ کیریئرز، کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹس، لاجسٹکس کمپنیوں، چیمبرز آف کامرس اور تجارتی تنظیمیں تین روز کے اندر اپنی تجاویز اور اعتراضات طلب کیے گئے ہیں۔ مقررہ مدت کے دوران موصول ہونے والی آرائ کا جائزہ لینے کے بعد مجوزہ ترامیم کو حتمی شکل دی جائے گی اور اس کے بعد باضابطہ طور پر نافذ کیا جائے گا۔


