بندرگاہوں پر طویل عرصہ پڑے درآمدی سامان کے لیے خودکار جرمانوں اور کلیئرنس کا نیا نظام متعارف

کراچی (کسٹم بلیٹن) فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے بندرگاہوں پر طویل عرصے تک کلیئر نہ ہونے والے درآمدی سامان کی موثر نگرانی، بروقت کلیئرنس اور جرمانوں کے شفاف نظام کے لیے ایس آراو1081کامسودہ جاری کردیاہے جس کے لئے متعلقہ درآمد کنندگان، کسٹمز ایجنٹس، تجارتی تنظیموں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے تین روز کے اندر اعتراضات اور تجاویز طلب کی گئی ہیں۔ ایف بی آر کا کہنا ہے کہ مقررہ مدت کے اندر موصول ہونے والی تجاویز پر غور کرنے کے بعد قواعد کو حتمی شکل دی جائے گی۔مجوزہ قواعد کے مطابق یہ نظام لینڈ کسٹمز اسٹیشنز اور ہوائی اڈوں پر لاگو نہیں ہوگا۔ اسی طرح کسٹمز ایکٹ کے فرسٹ شیڈول کی شق99کے تحت درآمد کیا جانے والا سامان، ٹرانزٹ یا بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کا سامان، ذاتی استعمال کے لیے درآمد کیا گیا سامان (پرسنل بیگیج) اور بلک کارگو بھی ان قواعد کے دائرہ کار سے باہر ہوں گے۔مسودے میں تجویز کیا گیا ہے کہ اگر کسی درآمدی سامان پر کسٹمز ایکٹ کی دفعہ۲۸(۱) کے تحت جرمانہ عائد ہوتا ہے تو وی بوک کسٹمز کمپیوٹرائزڈ سسٹم خودکار طور پر جرمانے کی رقم کا تعین کرے گا۔ گڈز ڈیکلریشن جمع کرانے یا سامان کی ریلیز سے قبل درآمد کنندہ یا اس کے مجاز کلیئرنگ ایجنٹ کو الیکٹرانک شوکاز نوٹس جاری کیا جائے گا جس میں جرمانے کی مکمل تفصیلات درج ہوں گی۔ جرمانے کی شرح ایف بی آر کی جانب سے انچارج کی منظوری کے بعد جاری کیے جانے والے علیحدہ نوٹیفکیشن کے مطابق مقرر کی جائے گی۔قواعد کے مطابق درآمد کنندہ یا اس کا مجاز ایجنٹ جرمانہ قبول کر کے وی بوک کے ذریعے آن لائن ادائیگی کر سکتا ہے، جس کے بعد سامان کی کلیئرنس کا عمل جاری رہے گا۔ تاہم اگر درآمد کنندہ جرمانے سے اختلاف کرے تو وہ معاملہ ایڈجوڈیکیشن کے لیے بھیج سکے گا۔ ایسی صورت میں کمپیوٹرائزڈ نظام کیس متعلقہ کلکٹر کسٹمز یا مجاز افسر کو بھیجے گا، جو پانچ ورکنگ ڈیز کے اندر فیصلہ کرنے کا پابند ہوگا، جبکہ چیف کلکٹر تحریری وجوہات کی بنیاد پر مزید پانچ ورکنگ ڈیز کی توسیع دے سکے گا۔مجوزہ قواعد میں کہا گیا ہے کہ اگر ایڈجوڈیکیٹنگ اتھارٹی شوکاز نوٹس ختم کر دیتی ہے تو وی بوک سسٹم خودکار طور پر گڈز ڈیکلریشن کی مزید کارروائی اور سامان کی ریلیز کی اجازت دے دے گا۔ تاہم اگر جرمانہ برقرار رکھا جاتا ہے تو درآمد کنندہ کو وی بوک کے ذریعے جرمانہ ادا کرنے کے بعد ہی سامان کی کلیئرنس کی اجازت ملے گی۔مسودے کے مطابق متاثرہ شخص فیصلے کے خلاف 15یوم کے اندر متعلقہ چیف کلکٹر کسٹمز کے پاس کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے ذریعے اپیل دائر کر سکے گا، جبکہ چیف کلکٹر اپیل پر پانچ دن کے اندر فیصلہ کرنے کا پابند ہوگا۔ایف بی آر کا کہنا ہے کہ نئے قواعد کا مقصد بندرگاہوں پر طویل عرصے تک پڑے درآمدی سامان کی بروقت کلیئرنس، کسٹمز کارروائی کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانا، جرمانوں کے تعین میں شفافیت لانا اور انسانی مداخلت کو کم کرنا ہے۔ حکام کے مطابق اس نظام سے بندرگاہوں پر کارگو کے غیر ضروری انبار میں کمی، تجارتی سرگرمیوں میں تیزی، کاروباری لاگت میں کمی اور حکومتی ریونیو کی وصولی کے نظام کو مزید موثر بنانے میں مدد ملے گی۔ مجوزہ قواعد کے31 اگست 2026 سے نافذ العمل ہوں گے۔


