کراچی کی بندرگاہوں پر موجود 300 سے زائد کنٹینرز پر مشتمل اربوں روپے کی زہریلی اورمضرصحت چھالیہ تلف کرنے کا فیصلہ

کراچی (کسٹم بلیٹن)کراچی کی بندرگاہوں پر پاکستان کی تاریخ میں مضر صحت چھالیہ کی تلفی کا سب سے بڑا کریک ڈاو¿ن شروع کر دیا گیا ہے، جہاں محکمہ کسٹمز اور ڈائریکٹوریٹ آف پلانٹ پروٹیکشن نے کراچی پورٹس (کے آئی سی ٹی اور ایس اے پی ٹی) سمیت مختلف بانڈڈ ویئر ہاو¿سز میں پھنسے 300 سے زائد کنٹینرز میں موجود لاکھوں میٹرک ٹن زہریلی اور کینسر کا سبب بننے والی چھالیہ کو ضائع کرنے کی حتمی تیاری مکمل کر لی ہے۔ اس ہنگامی کارروائی کا براہِ راست نوٹس وزیراعظم آفس سے لیا گیا ہے اور وہاں سے اس کی ہفتہ وار بنیادوں پر مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق امپورٹرز کی جانب سے 4 جون 2026ءکی طے شدہ ایس او پیز کے تحت نئے نمونہ جات اور لیبارٹری ٹیسٹنگ نہ کرانے کے بعد چیف کلکٹر کسٹمز کی ہدایت پر کلکٹرز نے کسٹمز ایکٹ 1969 کے تحت اس مضر صحت چھالیہ کو تلف کرنے کا عمل تیز کر دیا ہے، کیونکہ ایچ ای جے اور پی ایس کیو سی اے کی تحقیقاتی رپورٹس میں اس میں فنگس اور کینسر کا سبب بننے والے افلاٹاکسن مادہ کی مقدار خطرے کے نشان سے کہیں زیادہ پائی گئی تھی۔اس بڑی کارروائی کی زد میں ملک کی متعدد نامور امپورٹنگ کمپنیاں آئی ہیں جنہوں نے قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے انتہائی ناقص اور زہریلی چھالیہ پاکستان درآمدکی ۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ کھیپ سارہ انٹرپرائزز کی ہے جس کے 22 کنٹینرز پر مشتمل 6 لاکھ 16 ہزار کلوگرام چھالیہ پورٹ اور بانڈڈ گوداموں میں پھنسی ہوئی ہے جسے تلف کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح سلور انٹرپرائزز کے 20 کنٹینرز میں موجود 5 لاکھ 40 ہزار کلوگرام،میسرز بنگش کمرشل انڈسٹریز کے 12 کنٹینرز کے 5 لاکھ 46 ہزار کلوگرام اورمیسرز یو کے ٹریڈرز کے 15 کنٹینرز میںدرآمدکی گئی 4 لاکھ 21 ہزار کلوگرام سے زائد چھالیہ کو بھی کسٹمز کی جانب سے ضبط کر کے ضائع کیا جا رہا ہے۔تلف کی جانے والی اس زہریلی چھالیہ کے دیگر بڑے امپورٹرز میں کریڈیبل بزنس ہب شامل ہے جس کے 15 کنٹینرز کا مجموعی وزن 4 لاکھ 15 ہزار کلوگرام ہے، جبکہ میسرز الائنس ٹریڈنگ کے 14 کنٹینرز پر مشتمل تقریباً 392 میٹرک ٹن، میسرز فوڈیز پرائیویٹ لمیٹڈ کے 9 کنٹینرز جن کا وزن 3 لاکھ 42 ہزار کلوگرام ہے، میسرز آریائین انٹرنیشنل کے 10کنٹینرز میں موجود 2 لاکھ 70 ہزار کلوگرام سے زائد چھالیہ بھی اسی کارروائی کی زد میں آئی ہے میسرز الٹیمیٹ ویژن کے 6 کنٹینرز میں2 لاکھ 80 ہزار کلوگرام،میسرسز این ایم انٹرپرائزز کے 6 کنٹینرزمیں2 لاکھ 80 ہزار کلوگرام مضرصحت اورزہریلی چھالیہ ،میسرز تھائی فوڈ پروڈکٹس کے 8 کنٹینرز جن میں 2 لاکھ 24 ہزار کلوگرام چھالیہ موجود ہے، کو بھی انسانی صحت کے لیے شدید خطرناک قرار دیتے ہوئے ضائع کرنے کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔سرکاری رپورٹس میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ میسرز ازوان نیچرل کے 7 کنٹینرزمیں1 لاکھ 96 ہزار کلوگرام،میسرز جی ایم پی فوڈز پرائیویٹ لمیٹڈ کے 4 کنٹینرز میں1 لاکھ 34 ہزار کلوگرام،میسرز دانش امپیکس کے 5 کنٹینرز میں1 لاکھ 40 ہزار کلوگرام، میسرزطاہر زنگی ٹریڈنگ کے 6 کنٹینرزمیں1 لاکھ 62 ہزار کلوگرام ،میسرز کیپٹل بزنس امپیکس کے 3 کنٹینرز میں 1 لاکھ 40 ہزار کلوگرام چھالیہ کے نمونے بھی لیبارٹری معیار پر پورا نہیں اترے۔ اس کے علاوہ میسرز بی ڈی ایم انٹرپرائزز کے 5 کنٹینرزمیں ایک لاکھ40ہزارکلوگرام چھالیہ،میسرز عزیر انٹرپرائزز کے 3 کنٹینرزمیں64 ہزار کلوگرام،میسرز بسم اللہ انٹرنیشنل کے 2 کنٹینرزمیں54 ہزار کلوگرام، میسرزانیس اینڈ سنز کے 2 کنٹینرزمیں56 ہزار کلوگرام اورمیسرز سحر امپیکس کے 2 کنٹینرز میں54 ہزار کلوگرام پر مشتمل کنسائنمنٹس بھی کسٹمز کے شکنجے میں آ چکی ہیں۔محکمہ کسٹمز اور پلانٹ پروٹیکشن کی اس مشترکہ کارروائی کے نتیجے میں 42 لاکھ کلوگرام (4 ہزار 2 سو میٹرک ٹن) سے بھی زائد زہریلی چھالیہ کو عوام تک پہنچنے اور منشیات کی طرح پھیلنے سے روک دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بیشتر امپورٹرز نے لیبارٹری فیسوں کے پے آرڈر جمع کرانے سے گریز کیا اور معاملے کو التوا میں ڈالنے کی کوشش کی، تاہم اب تمام تر قانونی کارروائی کی حتمی رپورٹ وزیراعظم آفس بھیجی جا رہی ہے اور کراچی پورٹ کی تمام بندرگاہوں سے اس خطرناک مواد کا خاتمہ یقینی بنایا۔



