چھالیہ کی درآمد میں رکاوٹیں، سالانہ 36 ارب روپے سے زائد قومی خزانے کو نقصان،بیٹل نٹس ایسوسی ایشن

کراچی(کسٹم بلیٹن)آل پاکستان بیٹل نٹس امپورٹرز ایسوسی ایشن نے چھالیہ کی قانونی درآمد میں رکاوٹوں اور بھاری قومی ریونیو نقصان کے خلاف چیئرمین ایف بی آر / سیکریٹری ریونیو ڈویژن اسلام آباد کے روبروایک درخواست دائرکردی ہے، جس میں چیف کلکٹر کسٹمز (اپریزمنٹ) ساو¿تھ کراچی اور ڈیپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن (ڈی پی پی) کو باقاعدہ فریق بنایا گیا ہے۔دائرکی گئی درخواست میں کہاگیاہے کہ ڈیپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن کراچی کی جانب سے ایک مکتوب کے ذریعے چھالیہ کی درآمد پر ان ٹوبانڈجی ڈی فائلنگ کی حوصلہ شکنی کی گئی، جو نہ صرف کسٹمز ایکٹ 1969 بلکہ آئین پاکستان اور ایف بی آر کے ریونیو اختیارات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔درخواست میں ایسوسی ایشن نے موقف اختیار کیا ہے کہ چھالیہ ایچ ایس کوڈ0802.8000کے تحت ایک قانونی طورپر درآمدکی جاتی ہے ، جس کی اجازت امپورٹ پالیسی آرڈر 2022 میں دی گئی ہے۔ چھالیہ کی درآمد پر افلاٹاکسین (فنگس) ٹیسٹ لازم ہے، اور اگر رپورٹ منفی آئے تو کنسائمنٹ کو ری ایکسپورٹ یا تلف کیا جاتا ہے۔درخواست گزار کے مطابق اگر لیبارٹری ٹیسٹ سے پہلے ہی 100 فیصد ڈیوٹی اور ٹیکسز وصول کر لیے جائیں تو درآمدکنندگان کو بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اسی لیے دنیا بھر میں ان ٹوبانڈ کلیئرنس سسٹم رائج ہے، جس میں ابتدائی طور پر صرف 1 فیصد ادائیگی اور کلیئرنس کے بعد باقی 99 فیصد ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔نمائندگی میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں چھالیہ کی ماہانہ طلب 300 کنٹینرز سے زائد ہے، جس سے حکومت کو ماہانہ تقریباً 3 ارب روپے اور سالانہ36 ارب روپے سے زائد ریونیو حاصل ہو سکتا ہے، مگر قانونی درآمد میں رکاوٹوں کے باعث 90 فیصد چھالیہ اسمگلنگ کے ذریعے مارکیٹ میں آ رہی ہے۔ایسوسی ایشن نے الزام عائد کیا ہے کہ اسمگلنگ مافیا بعض بدعنوان عناصر کے ساتھ مل کر قانونی درآمد کو ناکام بنا رہا ہے، جبکہ اسمگل شدہ چھالیہ نہ تو افلاٹاکسن ٹیسٹ سے گزرتی ہے اور نہ ہی اس پر کوئی ڈیوٹی یا ٹیکس ادا کیا جاتا ہے، جو نہ صرف قومی خزانے بلکہ عوامی صحت کے لیے بھی خطرہ ہے۔درخواست گذارنے چیف کلکٹر کسٹمز اپریزمنٹ ساﺅتھ کراچی پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ وہ ریونیو کے تحفظ میں ناکام رہے اور ڈی پی پی کی غیر قانونی مداخلت کے خلاف مو¿ثر کردار ادا نہیں کیا۔ایسوسی ایشن نے چیئرمین ایف بی آر سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈی پی پی کا متنازعہ خط فوری طور پر کالعدم قرار دیا جائے جبکہ چھالیہ کی درآمد کے لیے ان ٹوبانڈ جی ڈی فائلنگ بحال کی جائے۔




